قرآن کریم > آل عمران >surah 3 ayat 91
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَمَاتُواْ وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الأرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ أُوْلَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ
جن لوگوں نے کفر اپنا یا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان میں سے کسی سے پوری زمین بھر کر سونا بھی قبول نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ اپنی جان چھڑانے کیلئے اس کی پیشکش ہی کیوں نہ کرے ۔ ان کو تو دردناک عذاب ہو کر رہے گا، اور ان کو کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے
آیت ۹۱: اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَہُمْ کُفَّارٌ: ’’یقینا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور مر گئے اسی حال میں کہ وہ کافر تھے‘‘
فَلَنْ یُّـقْبَلَ مِنْ اَحَدِہِمْ مِّلْئُ الْاَرْضِ ذَہَبًا وَّلَــوِ افْتَدٰی بِہ: ’’تو ان میں سے کسی سے زمین کی مقدار کے برابر سونا بھی فدیے میں قبول نہیں کیا جائے گا اگر وہ پیش کر سکے۔‘‘
ظاہر ہے کہ یہ محال ہے‘ نا ممکن ہے‘ لیکن یہ بات سمجھانے کے لیے کہ وہاں پر کوئی فدیہ نہیں ہے فرمایا کہ اگر کوئی زمین کے حجم کے برابر سونا دے کر بھی چھوٹنا چاہے گا تو نہیں چھوٹ سکے گا۔ یہ وہی بات ہے جو سورۃ البقرۃ کی آیت: 48 اور آیت: 123 میں فرمائی گئی کہ اُس دن کسی سے کوئی فدیہ نہیں لیا جائے گا۔
اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْـمٌ: ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے لیے دردناک عذاب ہے‘‘
وَّمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ: ’’اور نہیں ہوں گے ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے۔‘‘