October 24, 2026

قرآن کریم > آل عمران >surah 3 ayat 135

وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ  وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ

اوریہ وہ لوگ ہیں کہ اگر کبھی کوئی بے حیائی کا کام کر بھی بیٹھتے ہیں یا (کسی اور طرح) اپنی جان پر ظلم کر گذرتے ہیں تو فوراً اﷲ کو یاد کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں ۔ اور اﷲ کے سوا ہے بھی کون جو گناہوں کی معافی دے ؟اور یہ اپنے کئے پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے

 آیت 135:    وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْآ اَنْفُسَہُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ:  ’’اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی ان سے کسی بے حیائی کا ارتکاب ہو جائے یا اپنے اوپر کوئی اور ظلم کر بیٹھیں تو فوراً انہیں اللہ یاد آ جاتا ہے‘‘

             فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِہِمْ: ’’پس وہ اس سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں۔‘‘

            یہ مضمون سورۃ النساء میں آئے گا کہ کسی مسلمان شخص سے اگر کوئی خطا ہو جائے اور وہ فوراً توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر واجب ٹھہرا لیا ہے کہ اس کی توبہ ضرور قبول فرمائے گا۔

             وَمَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ اللّٰہُ:  ’’اور کون ہے جو معاف کر سکے گناہوں کو سوائے اللہ کے؟‘‘

             وَلَمْ یُصِرُّوْا عَلٰی مَا فَـعَلُوْا وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ:   ’’اور وہ اپنے اس غلط فعل پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے۔‘‘

            یعنی ایسا نہیں کہ گناہ پر گناہ کرتے چلے جا رہے ہیں کہ موت آنے پر توبہ کر لیں گے۔ اُس وقت کی توبہ توبہ نہیں ہے۔ ایک مسلمان سے اگر جذبات کی رو میں بہہ کر یا بھول چوک میں کوئی گناہ سرزد ہو جائے اور وہ ہوش آنے پر اللہ کے حضور گڑگڑائے‘ عزم مصمم کرے کہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا‘ اور پوری پشیمانی کے ساتھ صمیم  قلب سے اللہ کی جناب میں توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔

UP
X
<>