قرآن کریم > آل عمران >surah 3 ayat 128
لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذَّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ
(اے پیغمبر !) تمہیں اس فیصلے کا کوئی اختیار نہیں کہ اﷲ ان کی توبہ قبول کرے یا ان کو عذاب دے کیونکہ یہ ظالم لوگ ہیں
آیت 128: لَـیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ: ’’(اے نبی) اس معاملے میں آپ کو کوئی اختیار نہیں‘‘
اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْہِمْ اَوْ یُـعَذِّبَہُمْ: ’’اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب دے‘‘
یہ اللہ کے اختیار میں ہے‘ وہ چاہے گا تو ان کو توبہ کی توفیق دے دے گا‘ وہ ایمان لے آئیں گے‘یااللہ چاہے گا تو انہیں عذاب دے گا۔
فَاِنَّـہُمْ ظٰلِمُوْنَ: ’’اس لیے کہ وہ ظالم ہیں۔‘‘
ان کے ظالم ہونے میں کوئی شبہ نہیں‘ لہٰذا وہ سزا کے حق دار تو ہو چکے ہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے اللہ انہیں ہدایت دے دے ۔ دیکھئے: یہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ چند سال پہلے طائف میں رسول اللہ سے جس طرح بدسلوکی کا مظاہرہ کیا گیا وہ آپ کی زندگی کا شدید ترین دن تھا۔اس پر جبرائیل نے آکر کہا کہ یہ ملک الجبال حاضر ہے۔ یہ کہتا ہے کہ مجھے اللہ نے بھیجا ہے‘ آپ فرمائیں تو ان دونوں پہاڑوں کو ٹکرا دوں جن کے مابین وادی کے اندر یہ شہر طائف آباد ہے‘ تاکہ یہ سب پس جائیں‘ ان کا سرمہ بن جائے ۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں‘ کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کی آئندہ نسلوں کو ہدایت دے دے۔ لیکن یہ وقت کچھ ایسا تھا کہ بربنائے طبع بشری زبان مبارک سے وہ جملہ نکل گیا۔ اس لیے کہ:
«وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی وَالرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلْ»
’’ بندہ بندہ ہی رہتا ہے چاہے کتنا ہی بلند ہو جائے‘ اورربّ‘ ربّ ہی ہے چاہے کتنا ہی نزول فرما لے!‘‘