October 24, 2026

قرآن کریم > آل عمران >surah 3 ayat 127

 لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنقَلِبُواْ خَآئِبِينَ 

(اور جنگِ بدر میں یہ مدد اﷲ نے اس لئے کی) تاکہ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے ان کا ایک حصہ کاٹ کر رکھ دے، یا ان کو ایسی ذلت آمیز شکست دے کہ وہ نامراد ہو کر واپس چلے جائیں ۔

 آیت 127:    لِیَـقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا:  ’’(اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا) تاکہ کافروں کا ایک بازو کاٹ دے ‘‘

             اَوْ یَکْبِتَہُمْ فَـیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ:  ’’یا انہیں ذلیل کر دے کہ وہ خائب و خاسر ہو کر لوٹ جائیں۔‘‘

            یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں غزوہ اُحد کے حالات و واقعات اور ان پر تبصرہ زمانی ترتیب سے نہیں ہے۔ سب سے پہلے رسول اللہ  کا اپنے گھر سے نکل کر میدانِ جنگ میں مورچہ بندی کا ذکر ہوا۔ پھر اس سے پہلے کا ذکر ہو رہا ہے جب خبریں پہنچی ہوں گی کہ تین ہزار کا لشکر مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لیے آ رہا ہے اور رسول اللہ  نے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ  کی مدد و نصرت کی خوشخبری دی ہو گی۔ اب اس جنگ کے دوران مسلمانوں سے جو کچھ خطائیں اور غلطیاں ہوئیں ان کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔ خود آنحضور  سے بھی خطا کا ایک معاملہ ہوا‘ اس پر بھی گرفت ہے‘ بلکہ سب سے پہلے اسی معاملے کو لیا جا رہا ہے۔ جب آپ  شدید زخمی ہو گئے اور آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی‘ پھر جب ہوش آیا تو آپ  کی زبان پر یہ الفاظ آ گئے:

«کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوْا وَجْہَ نَبِـیِّھِمْ بِالدَّمِ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ اِلَی اللّٰہِ»

’’یہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا جبکہ وہ انہیں اللہ کی طرف بلا رہا تھا!‘‘

تلوار کا وار آنحضور  کے رُخسار کی ہڈی پر پڑا تھا  اور اس سے آپ کے دو دانت بھی شہید ہو گئے تھے۔ زخم سے خون کا فوارہ چھوٹا تھا جس سے آپ  کا پورا چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا تھا۔ خون اتنی مقدار میں بہہ گیا تھا کہ آپ  پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ آپ  ہوش میں آئے تو زبانِ مبارک سے یہ الفاظ ادا ہو گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: لَـیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْئٌ … اے نبی اس معاملے میں آپ كا کوئی اختیار نہیں ہے‘ آپ کا کام دعوت دینا اور تبلیغ کرنا ہے۔ لوگوں کی ہدایت اور ضلالت کے فیصلے ہم کرتے ہیں۔ اور دیکھئے اللہ نے کیا شان دکھائی؟ جس شخص کی وجہ سے مسلمانوں کو ہزیمت اٹھانا پڑی ‘ یعنی خالد بن ولید  اللہ تعالیٰ نے حضور  ہی کی زبانِ مبارک سے اسے «سَیفٌ مِن سُیوفِ اللّٰہ»  (اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار) کا خطاب دلوا دیا۔

UP
X
<>