October 24, 2026

قرآن کریم > آل عمران >surah 3 ayat 121

وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَھْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِيْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 

(اے پیغمبر ! جنگِ احد کو وہ وقت یاد کرو) جب تم صبح کے وقت اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو جنگ کے ٹھکانوں پر جمارہے تھے، اور اﷲ سب کچھ سننے جاننے والا ہے ۔

یہاں سے سوره آل عمران کے نصف ِثانی کے دوسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے ‘ جو چھ رکوعات پر محیط ہے۔ یہ چھ رکوع مسلسل غزوه اُحد کے حالات و واقعات اور ان پر تبصرے پر مشتمل ہیں۔ غزوئہ اُحد شوال 3ھ میں پیش آیا تھا۔ اس سے پہلے رمضان ۲ھ میں غزوئہ بدر پیش آچکا تھا‘ جس کا تذکرہ ہم سورۃ الانفال میں پڑھیں گے۔ اس لیے کہ ترتیب مصحف نہ تو ترتیب زمانی کے اعتبار سے ہے اور نہ ہی ترتیب ِنزولی کے مطابق۔ غزوئہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بہت زبردست فتح دی تھی اور کفارِ مکہ کو بڑی زَک پہنچی تھی۔ ان کے ستر (70) سربرآوردہ لوگ مارے گئے تھے‘ جن میں قریش کے تقریباً سارے بڑے بڑے سردار بھی شامل تھے۔ اہل مکہ کے سینوں میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی اور ان کے انتقامی جذبات لاوے کی طرح کھول رہے تھے۔ چنانچہ ایک سال کے اندر اندر انہوں نے پوری تیاری کی اور تمام ساز و سامان جو وہ جمع کر سکتے تھے جمع کر لیا۔ ابوجہل غزوئہ بدر میں مارا جا چکا تھا اور اب قریش کے سب سے بڑے سردار ابوسفیان تھے۔ (ابو سفیان چونکہ بعد میں ایمان لے آئے تھے اور صحابیت کے مرتبے سے سرفراز ہوئے تھے لہٰذا ہم ان کا نام احترام سے لیتے ہیں۔) ابو سفیان تین ہزار جنگجوئوں کا لشکر لے کر مدینہ پر چڑھ دوڑے ۔ اہل مکہ اپنی فتح یقینی بنانے کے لیے اس دفعہ اپنے بچوں اور خاص طور پر خواتین کو بھی ساتھ لے کر آئے تھے تاکہ ان کی غیرت بیدار رہے کہ اگر کہیں میدان سے ہمارے قدم اکھڑ گئے تو ہماری عورتیں مسلمانوںکے قبضے میں چلی جائیں گی۔ ابوسفیان کی بیوی ہندہ بنت عتبہ بھی لشکر کے ہمراہ تھی۔ (وہ بھی بعد میں فتح مکہ کے موقع پر ایمان لے آئی تھیں۔) غزوئہ بدر میں ہندہ کا باپ‘ بھائی اور چچا مسلمانوں کے ہاتھوں واصل جہنم ہو چکے تھے‘ لہٰذا اس کے سینے کے اندر بھی انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ مکہ کا شاید ہی کوئی گھر بچا ہو جس کا کوئی فرد غزوئہ بدر میں مارا نہ گیا ہو ۔

            اس موقع پر نبی اکرم  نے مدینہ منورہ میں ایک مشاورت منعقد فرمائی کہ اب کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے‘جبکہ تین ہزار کا لشکر مدینہ پر چڑھائی کرنے آ رہا ہے۔ رسول اللہ  کا اپنا رجحان اس طرف تھا کہ اس صورت حال میں ہم اگر مدینہ میں محصور ہو کر مقابلہ کریں تو بہتر رہے گا۔ عجیب اتفاق ہے کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی کی بھی یہی رائے تھی ۔ لیکن وہ لوگ جو بدر کے بعد ایمان لائے تھے اور وہ جو غزوئہ بدر میں شریک نہیں ہوپائے تھے ان میں سے خاص طور پر نوجوانوں کی طرف سے خصوصی جوش و خروش کا مظاہرہ ہو رہا تھا کہ ہمیں میدان میں نکل کر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے‘ ہمیں تو شہادت درکار ہے‘ ہمیں آخر مو ت سے کیا ڈر ہے؟  

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن

نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی!

چنانچہ رسول اللہ  نے اُن کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے فیصلہ فرما دیا کہ دشمن کا کھلے میدان میں مقابلہ کیا جائے گا۔ نبی اکرم  نے ایک ہزار کی نفری لے کر مدینہ سے جبل اُحد کی جانب کوچ فرمایا‘ لیکن راستے ہی میں عبداللہ بن اُبی اپنے تین سو آدمیوں کو ساتھ لے کر یہ کہہ کر واپس چلا گیا کہ جب ہمارے مشورے پر عمل نہیں ہوتا اور ہماری بات نہیں مانی جاتی تو ہم خواہ مخواہ اپنی جانیں جوکھوں میں کیوں ڈالیں؟ تین سو منافقین کے چلے جانے کے بعد اسلامی لشکر میں صرف سات سو افراد باقی رہ گئے تھے‘ جن میں کمزور ایمان والے بھی تھے۔ چنانچہ دامن اُحد میں پہنچ کر مدینہ کے دو خاندانوں بنو حارثہ اور بنوسلمہ کے قدم بھی تھوڑی دیر کے لیے ڈگمگائے اور انہوںنے واپس لوٹنا چاہا‘ لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو حوصلہ دیا اور ان کے قدم جما دیے۔

            اس کے بعد جنگ ہوئی تو اللہ کی طرف سے مدد آئی۔ اللہ نے لشکر اسلام کو فتح دے دی اور مشرکین کے قدم اکھڑ گئے۔ نبی اکرم  نے اُحد پہاڑ کو اپنی پشت پر رکھا تھا اور اس کے دامن میں صف بندی کی تھی۔ سامنے دشمن کا لشکر تھا۔ پہاڑ میں ایک درّہ تھا اور حضور  کو اندیشہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ وہاں سے ہم پر حملہ ہو جائے اور ہم دو طرف سے چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آجائیں۔ لہٰذا آپ  نے اس درّہ پر حضرت عبداللہ بن جبیر  کی امارت میں پچاس تیر انداز تعینات فرما دیے تھے اور انہیں تاکید فرمائی تھی یہاں سے مت ہلنا۔ چاہے تم دیکھو کہ ہم سب مارے گئے ہیں اور ہمار اگوشت چیلیں اور کوّے نوچ رہے ہیں تب بھی یہ جگہ مت چھوڑنا! لیکن جب مسلمانوں کو فتح ہو گئی تو درّے پر مامور حضرات میں اختلاف ِرائے ہو گیا۔ ان میں سے اکثر نے کہا کہ رسول اللہ  نے ہمیں جو اتنی تاکید فرمائی تھی وہ تو شکست کی صورت میں تھی‘ اب تو فتح ہو گئی ہے‘ لہٰذا اب ہمیں بھی چل کر مالِ غنیمت جمع کرنے میں باقی سب لوگوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن جبیر  وہاں کے لوکل کمانڈر تھے‘ وہ انہیں منع کرتے رہے کہ یہاں سے ہرگز مت ہٹو‘ رسول اللہ  کا حکم یاد رکھو۔ لیکن وہ توحضور  کے حکم کی تاویل کر چکے تھے۔ ان میں سے 35 افراد درّہ چھوڑ کر چلے گئے اور صرف 15 باقی رہ گئے۔

            خالد بن ولید (جو اُس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے) مشرکین کی گھڑ سوار فوج (cavalry) کے کمانڈر تھے۔ ان کی عقابی نگاہ نے دیکھ لیا کہ وہ درہ خالی ہے۔ ان کی پیدل فوج (infantry) شکست کھا چکی تھی اور بھگدڑ مچ چکی تھی۔ ایسے میں وہ اپنے دو سو گھڑ سواروں کے دستے کے ساتھ اُحد کا چکر کاٹ کر پشت سے اس درے کے راستے مسلمانوں پر حملہ آور ہو گئے۔ درّے پر صرف پندرہ تیر انداز باقی تھے‘ ان کے لیے دو سو گھڑ سواروں کی یلغار کو روکنا ممکن نہیں تھا اور وہ مزاحمت کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس اچانک حملے سے یکلخت جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسلمانوں کی فتح شکست میں بدل گئی ۔ ستر صحابہ کرام شہید ہو گئے۔ رسول اللہ  خود بھی زخمی ہو گئے۔ َخود کی کڑیاں آپ کے رخسار میں گھس گئیں اور دندانِ مبارک شہید ہو گئے ۔ خون اتنا بہا کہ آپ  پر بے ہوشی طاری ہو گئی ‘ اور یہ بھی مشہور ہو گیا کہ حضور  کا انتقال ہو گیا ہے۔اس سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہو گئے ۔ لیکن پھر جب رسول اللہ  نے لوگوں کو پکارا تو لوگ ہمت کر کے جمع ہوئے۔ تب آپ  نے یہ فیصلہ کیا کہ اس وقت پہاڑ پر چڑھ کر بچائو کر لیا جائے ‘اور آپ تمام مسلمانوں کو لے کر کوہِ اُحد پر چڑھ گئے ۔ اس موقع پر ابوسفیان اور خالد بن ولید کے مابین اختلافِ رائے ہو گیا۔ خالد بن ولید کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کے پیچھے پہاڑ پر چڑھنا چاہیے اور انہیںختم کر کے ہی دم لینا چاہیے۔ لیکن ابوسفیان بڑے حقیقت پسند اور زیرک شخص تھے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں‘ مسلمان اونچائی پر ہیں ‘ وہ اوپر سے پتھر پھینکیں گے اور تیر برسائیں گے تو ہمارے لیے شدید جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ ہم نے بدر کا بدلہ لے لیا ہے‘ یہی بہت ہے۔ چنانچہ مشرکین وہاں سے چلے گئے۔ مطالعۂ آیات سے قبل غزوئہ احد کے سلسلۂ واقعات کا یہ اجمالی خاکہ ذہن میں رہنا چاہیے۔

 آیت 121:    وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَہْلِکَ  تُبَـوِّیُٔ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ:  ’’اور (اے نبی !) یاد کیجیے جبکہ صبح کو آپ اپنے گھر سے نکلے تھے اور مسلمانوں کو جنگ کے مورچوں میں مامور کر رہے تھے۔‘‘

            غزوہ اُحد کی صبح آپ  حضرت عائشہ کے حجرے سے برآمد ہوئے تھے اور جنگ کے میدان میں صف بندی کر رہے تھے‘ وہاں مورچے معین کر رہے تھے اور ان میں صحابہ کرام کو مامور کر رہے تھے۔

             وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ:  ’’جبکہ اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘ 

UP
X
<>