October 24, 2026

قرآن کریم > آل عمران >surah 3 ayat 120

 إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُواْ بِهَا وَإِن تَصْبِرُواْ وَتَتَّقُواْ لاَ يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ 

اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو ان کو برا لگتا ہے، اور اگر تمہیں کوئی گزند پہنچے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں ۔ اگر تم صبر اور تقویٰ سے کام لوتو ان کی چالیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی ۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سب اﷲ کے (علم اور قدرت کے) احاطے میں ہے

 آیت 120:    اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ:  ’’(اے مسلمانو!) اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچ جائے تو ان کو بری لگتی ہے۔‘‘

            اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہو جائے‘ کہیں فتح نصیب ہوجائے تو ان کو اس سے تکلیف پہنچتی ہے۔

             وَاِنْ تُصِبْکُمْ سَیِّـئَۃٌ یَّـفْرَحُوْا بِہَا:  ’’اور اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اس سے وہ خوش ہوتے ہیں۔‘‘

            اگر تمہیں کوئی گزند پہنچ جائے‘ کہیں عارضی طور پر شکست ہو جائے‘ جیسے اُحد میں ہو گئی تھی‘ تو بڑے خوش ہوتے ہیں‘ شادیانے بجاتے ہیں۔

             وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا لاَ یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا:  ’’لیکن اگر تم صبر کرتے رہو اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رہو تو ان کی یہ ساری چالیں تمہیں کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔‘‘

            سورۃ البقرۃ میں صبر اور صلوٰۃ سے مدد لینے کی تلقین کی گئی تھی ‘ یہاں صلوٰۃ کی جگہ لفظ تقویٰ آ گیا ہے کہ اگر تم یہ کرتے رہو گے تو پھر بالآخر ان کی ساری سازشیں ناکام ہوں گی۔

              اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ:  ’’جو کچھ یہ کر رہے ہیں یقینا اللہ تعالیٰ اُس کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘

            یہ اللہ تعالیٰ کے دائرے سے اور اس کی کھینچی ہوئی حد سے آگے نہیں نکل سکتے۔ یہ اس کے اندر اندر اُچھل کود کر رہے ہیں اور سازشیں کر رہے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں یہ ضمانت دے رہا ہے کہ یہ تمہیں کوئی مستقل نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔

UP
X
<>