October 24, 2026

قرآن کریم > آل عمران >surah 3 ayat 122

إِذْ هَمَّت طَّآئِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلاَ وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ

جب تمہی میں کے دو گروہوں نے یہ سوچا تھا کہ وہ ہمت ہار بیٹھیں، حالانکہ اﷲ ان کا حامی و ناصر تھا، اور مومنوں کو اﷲ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے ۔

آیت 122:   اِذْ ہَمَّتْ طَّـآئِفَتٰنِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلاَ:  ’’جبکہ تم میں سے دو گروہ بزدلی دکھانے پر آمادہ ہو گئے تھے‘‘

            انہوں نے کچھ کمزوری دکھائی‘ حوصلہ چھوڑنے لگے اور ان کے پاؤں لڑکھڑائے۔

             وَاللّٰہُ وَلِیُّہُمَا:  ’’حالانکہ اللہ ان کا پشت پناہ تھا۔‘‘

             وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ:  ’’اور اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے اہل ایمان کو۔‘‘

            َجنگ کے آغاز سے پہلے انصار کے دو گھرانوں بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے قدم وقتی طور پر ڈگمگا گئے تھے‘ بربنائے طبع بشری ان کے حوصلے پست ہونے لگے تھے اور انہوں نے واپسی کا ارادہ کر لیا تھا‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ثبات عطا فرمایا اور ان کے قدموں کو جما دیا۔ پھر ان کا ذکر قرآن میں کر دیا گیا۔ اور وہ اس پر فخر کرتے تھے کہ ہم وہ لوگ ہیں جن کا ذکر اللہ  تعالیٰ نے قرآن میں  «مِنْکُمْ» اور «وَاللّٰہُ وَلِیُّہُمَا» کے الفاظ میں کیا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ تین سو منافقین جو میدانِ جنگ سے چلے گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر تک نہیں کیا۔  گویا وہ اس لائق بھی نہیں ہیں کہ ان کا براہِ راست ذکر کیا جائے۔ البتہ آخر میں ان کا ذکر بالواسطہ طور پر (indirectly) آئے گا۔ 

UP
X
<>