October 25, 2026

قرآن کریم > آل عمران >surah 3 ayat 112

ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ اَيْنَ مَا ثُـقِفُوْٓا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِيَاۗءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۭ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ

وہ جہاں کہیں پائے جائیں، ان پر ذِلت کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے، اِلَّا یہ کہ اﷲ کی طرف سے کوئی سبب پیدا ہوجائے یا انسانوں کی طرف سے کوئی ذریعہ نکل آئے جو ان کو سہارا دیدے ؛ انجام کار وہ اﷲ کا غضب لے کر لوٹے ہیں، اور ان پر محتاجی مسلط کر دی گئی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اﷲ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے، اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے ۔ (نیز) اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور ساری حدیں پھلانگ جایا کرتے تھے

 آیت 112:   ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّــۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْآ:  ’’ان کے اوپر ذلت تھوپ دی گئی ہے جہاں کہیں بھی پائے جائیں‘‘

             اِلاَّ بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ:  ’’سوائے یہ کہ (انہیں کسی وقت) اللہ کا کوئی سہارا حاصل ہو جائے یا لوگوں کی طرف سے کوئی سہارا مل جائے‘‘

            جیسے آج پوری عیسائی دنیا ان کا سہارا بنی ہوئی ہے۔ اسرائیل اپنے بل پر نہیں‘ بلکہ پوری عیسائی دنیا کی پشت پناہی پر قائم ہے۔ خلیج کی جنگ میں اتحادی افواج کے کمانڈر انچیف نے صاف کہہ دیا تھا کہ یہ ساری جنگ ہم نے اسرائیل کے تحفظ کے لیے لڑی ہے۔ گویا اس قدر خونریزی سے صرف اسرائیل کا تحفظ پیش نظر تھا۔

             وَبَـآؤُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ:  ’’اور یہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق ہو گئے‘‘

             وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْمَسْکَنَۃُ:  ’’اور ان کے اوپر کم ہمتی مسلط کر دی گئی۔‘‘

             ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ:  ’’یہ اس لیے ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے رہے‘‘

             وَیَـقْـتُلُوْنَ الْاَنْبِیَـآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ:  ’’اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے۔‘‘

             ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ:  ’’اور یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی روش اختیار کی اور حدود سے تجاوز کرتے رہے ۔‘‘

            یاد رہے کہ یہ آیت تھوڑے سے لفظی فرق کے ساتھ سورۃ البقرۃ میں بھی گزر چکی ہے۔ (آیت: 61)

UP
X
<>