October 25, 2026

قرآن کریم > آل عمران >surah 3 ayat 110

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ۭ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ ۭمِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ

(مسلمانو !) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کیلئے وجود میں لائی گئی ہے ۔ تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اﷲ پر ایمان رکھتے ہو ۔ اگر اہلِ کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا ۔ ان میں سے کچھ تو مومن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے

آیت 110:    کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ:  ’’تم وہ بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے‘‘

            یہاں اُمت مسلمہ کی غرضِ تأسیس بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی یہ پوری اُمت مسلمہ اس مقصد کے لیے بنائی گئی تھی ۔ یہ دوسری بات ہے کہ اُمت مسلمہ اپنا مقصد حیات بھول جائے۔ ایسی صورت میں اُمت میں سے جو بھی جاگ جائیں وہ دوسروں کو جگا کر’’اُمت کے اندر ایک اُمت‘‘(Ummah within Ummah) بنائیں اور مذکورہ بالا تین کام کریں۔ لیکن حقیقت میں تو مجموعی طو رپر اس اُمت مسلمہ کا فرض منصبی ہی یہی ہے۔

            قبل ازیں ہم سورۃ البقرۃ کی آیت: 143 میں اُمت مسلمہ کا فرضِ منصبی بایں الفاظ پڑھ  چکے ہیں:  وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّـتَـکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا. سوره آل عمران کی آیت زیر مطالعہ اسی کے ہم وزن اور ہم پلہ آیت ہے۔ فرمایا: ’’تم بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے‘‘۔ دنیا کی دیگر قومیں اپنے لیے زندہ رہتی ہیں۔ ان کے پیش نظر اپنی ترقی‘ اپنی بہتری‘ اپنی بہبود اور دنیا میں اپنی عزت و عظمت ہوتی ہے‘ لیکن تم وہ بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کی راہنمائی کے لیے مبعوث کیا گیا ہے :

ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہے

کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہے!

مسلمان کی زندگی کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانا اور لوگوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرنا ہے۔ تمہیں جینا ہے ان کے لیے‘ وہ جیتے ہیں اپنے لیے۔ تمہیں نکالا گیا ہے‘ برپا کیا گیا ہے لوگوں کے لیے۔

             تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ:  ’’تم حکم کرتے ہو نیکی کا‘‘

             وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ:  ’’اور تم روکتے ہو بدی سے‘‘

              وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِِ:  ’’اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر۔‘‘

            نبی اکرم  کے دور میں پوری اُمت مسلمہ کی یہ کیفیت تھی۔ اور وہ جو پہلے بتایا گیا ہے  کہ ایک جماعت وجود میں آئے (آیت: 104) وہ اُس وقت کے لیے ہے جب اُمت اپنے مقصد ِوجود کو بھول گئی ہو۔ تو ظاہر بات ہے جن کو ہوش آجائے وہ لوگوں کو جگائیں اور ایک جمعیت فراہم کریں۔

             وَلَـوْ اٰمَنَ اَہْلُ الْکِتٰبِ لَـکَانَ خَیْرًا لَّــہُمْ:  ’’اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں بہتر تھا۔‘‘

             مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ:  ’’ان میں سے کچھ تو ایمان والے ہیں‘‘

            اس سے مراد وہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو اُس وقت تک یہودیوں یا نصرانیوں میں سے ایمان لا چکے تھے‘ اور وہ بھی جن کے اندر بالقوہ (potentially) ایمان موجود تھا اور اللہ کو معلوم تھا کہ وہ کچھ عرصہ کے بعد ایمان لے آئیں گے۔

             وَاَکْثَرُہُمُ الْفٰسِقُوْنَ: ’’لیکن ان کی اکثریت نافرمانوں پر مشتمل ہے۔‘‘

            وہی معاملہ جو آج اُمت مسلمہ کا ہو چکا ہے۔ آج اُمت کی اکثریت کا جو حال ہے وہ سب کو معلوم ہے۔

UP
X
<>