October 23, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 245

مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

کون ہے جو اﷲ کو اچھے طریقے پر قرض دے تاکہ وہ اسے اس کے مفاد میں اتنا بڑھائے چڑھائے کہ وہ بدر جہا زیادہ ہو جائے ؟ اور اﷲ ہی تنگی پیدا کرتا ہے اور وہی وسعت دیت اہے اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹایا جائے گا

آیت 245:    مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہ لَــہ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً :   «کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے تو اللہ اس کو اس کے لیے کئی گنا بڑھاتا رہے۔ »

            جو انفاق خالص اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے کیا جاتا ہے اسے اللہ اپنے ذمے ّقرضِ حسنہ سے تعبیر کرتا ہے۔  وہ کہتا ہے کہ تم میرے دین کو غالب کرنا چاہتے ہو‘ میری حکومت قائم کرنا چاہتے ہو‘ تو جو کچھ اس پر خرچ کرو گے وہ مجھ پر قرض ہے‘ جسے میں کئی گنا ُبڑھا چڑھا کر واپس کروں گا۔  

             وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَبْصُطُ :   «اور اللہ تنگ دستی بھی دیتا ہے اور کشادگی بھی دیتا ہے۔ »

            اللہ ہی کے اختیار میں ہے کسی چیز کو سکیڑ دینا اور کھول دینا‘ کسی کے رزق کو تنگ کر دینا یا اس میں کشائش کر دینا۔  

             وَاِلَـیْہِ تُرْجَعُوْنَ :   «اور اُسی کی طرف تمہیں لوٹا دیا جائے گا۔ »

            یہاں دیکھئے جہاد بالنفس اور جہاد بالمال دونوں چیزوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔  جہاد بالنفس کی آخری شکل قتال ہے اور جہاد بالمال کے لیے پہلے لفظ  «انفاق» آ رہا تھا‘ اب قرضِ حسنہ لایا جا رہا ہے۔ 

UP
X
<>