October 23, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 246

أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُوا قَالُوا وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ

کیا تمہیں بنی اسرائیل کے گروہ کے اس واقعے کا علم نہیں ہوا جب انہوں نے اپنے ایک نبی سے کہا تھا کہ ہمارا ایک بادشاہ مقرر کر دیجئے تاکہ (اس کے جھنڈے تلے) ہم اﷲ کے راستے میں جنگ کرسکیں ۔ نبی نے کہا: ’’ کیا تم لوگوں سے یہ بات کچھ بعید ہے کہ جب تم پر جنگ فرض کی جائے تو تم نہ لڑو؟ ‘‘ انہوں نے کہا : ’’ بھلا ہمیں کیا ہو جائے گا جو ہم اﷲ کے راستے میں جنگ نہ کریں گے، حالانکہ ہمیں اپنے گھروں اور اپنے بچوں کے پاس سے نکا ل باہر کیا گیا ہے ۔ ‘‘ پھر (ہوا یہی کہ) جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو ان میں سے تھوڑے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب پیٹھ پھیر گئے ۔ اور اﷲ ظالموں کو خوب جانتا ہے

 آیت 246:    اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاِ مِنْ بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی :   «کیا تم نے غور نہیں کیا بنی اسرائیل کے سرداروں کے معاملے میں ‘جو انہیں موسیٰ   کے بعد پیش آیا؟»

             اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّہُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُّـقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ :   «جبکہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ مقرر کر دیجیے‘ تاکہ ہم اللہ کی راہ میںجنگ کریں۔

            یہاں بادشاہ سے مراد امیر اور سپہ سالار ہے۔  ظاہر بات ہے کہ نبی کی موجودگی میں بلند ترین مرتبہ تو نبی ہی کا رہے گا‘ لیکن ایک ایسا امیر نامزد کر دیجیے جو نبی کے تابع ہو کر جنگ کی سپہ سالاری کر سکے۔  میں حدیث بیان کر چکا ہوں کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسٰی   سے لے کر حضرت عیسٰی   تک کوئی نہ کوئی نبی ضرور موجود رہا ہے۔  اُس وقت سیموئیل نبی تھے جن سے سردارانِ بنی اسرائیل نے یہ فرمائش کی تھی۔

             قَالَ ہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ اَلاَّ تُقَاتِلُوْا :   «انہوں نے کہا کہ تم سے اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ جب تم پر جنگ فرض کر دی جائے تو اُس وقت تم جنگ نہ کرو۔ »

            یعنی ابھی تو تمہارے بڑے دعوے ہیں‘ بڑے جوش و خروش اور بہادری کا اظہار کر رہے ہو‘ لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہو گا کہ میں اللہ تعالیٰ سے جنگ کی اجازت بھی لوں اور تمہارے لیے کوئی سپہ سالار یا بادشاہ بھی مقرر کر دوں اور پھر تم جنگ سے کنی کترا جاؤ؟

             قَالُوْا وَمَا لَـنَـآ اَلاَّ نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ :   «انہوں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں قتال نہ کریں؟»

             وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَاََبْنَــآئِنَا :   «جبکہ ہمیں نکال دیا گیا ہے ہمارے گھروں سے اور اپنے بیٹوں سے۔ »

            دشمنوں نے ان کے بیٹوں کو غلام اور ان کی عورتوں کو باندیاں بنا لیا تھا اور یہ اپنے ملکوں سے خوف کے مارے بھاگے ہوئے تھے۔  چنانچہ انہوں نے کہا کہ اب ہم جنگ نہیں کریں گے تو کیا کریں گے؟

             فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْہِمُ الْقِتَالُ :   «پھر جب ان پر جنگ فرض کر دی گئی»

             تَوَلَّــوْا اِلاَّ قَلِیْلاً مِّنْہُمْ :   «تو سب پیٹھ پھیر گئے ‘سوائے ان کی ایک قلیل تعداد کے۔ »

            یہ گویا مسلمانوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم بھی بہت کہتے رہے ہو کہ حضور ہمیں جنگ کی اجازت ملنی چاہیے‘ لیکن ایسا نہ ہو کہ جب جنگ کا حکم آئے تو وہ تمہیں ناگوار گزرے۔  آیت: 216 میں ہم یہ الفاظ پڑھ چکے ہیں:  کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کُرْہٌ لَّـکُمْ.   «تم پر جنگ فرض کی گئی ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔ »

              وَاللّٰہُ عَلِیْمٌم بِالظّٰلِمِیْنَ :   «اور اللہ ایسے ظالموں سے خوب با خبر ہے۔ » 

UP
X
<>