قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 243
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ
کیا تمہیں ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہوا جو موت سے بچنے کیلئے اپنے گھروں سے نکل آئے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے؟ چنانچہ اﷲ نے ان سے کہا: ’’مر جاؤ ‘‘ پھر انہیں زندہ کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اﷲ لوگوں پر بہت فضل فرمانے والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے
اب جو دو رکوع زیر مطالعہ آ رہے ہیں یہ اس اعتبار سے بہت اہم ہیں کہ ان میں اس جنگ کا تذکرہ ہے جس کی حیثیت گویا تاریخ بنی اسرائیل کے غزوئہ بدر کی ہے۔ قبل ازیں یہ بات ذکر کی جا چکی ہے کہ حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل نے یوشع بن نون کی سرکردگی میں جہاد و قتال کیا تو فلسطین فتح ہو گیا۔ لیکن انہوں نے ایک مستحکم حکومت قائم کرنے کی بجائے چھوٹی چھوٹی بارہ حکومتیں بنا لیں اور آپس میں لڑتے بھی رہے۔ لیکن تین سو برس کے بعد پھر یہ صورت حال پیدا ہوئی کہ جب ان کے اوپر دنیا تنگ ہو گئی اور آس پاس کی کافر اور مشرک قوموں نے انہیں دبا لیا اور بہت سوںکو اُن کے گھروں اور ان کے ملکوں سے نکال دیا تو پھر تنگ آ کر انہوں نے اُس وقت کے نبی سے کہا کہ ہمارے لیے کوئی بادشاہ‘ یعنی سپہ سالار مقرر کر دیجیے‘ اب ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں گے ۔ چنانچہ وہ جو جنگ ہوئی ہے طالوت اور جالوت کی‘ اس کے بعد گویا بنی اسرائیل کا دورِ خلافت راشدہ شروع ہوا۔
بنی اسرائیل کی تاریخ کا یہ دور جسے میں «خلافت ِراشدہ» سے تعبیر کر رہا ہوں‘ ان کے رسول کے انتقال کے تین سو برس بعد شروع ہوا‘ جبکہ اِس اُمت مسلمہ کی خلافت ِراشدہ رسول اللہ کے زمانے کے ساتھ ّمتصل ہے۔ اس لیے کہ صحابہ کرام نے جانیں دیں‘ خون دیا‘ قربانیاں دیں اور اس کے نتیجے میں رسول اللہ کی زندگی ہی میں دین غالب ہو گیا اور اسلامی ریاست قائم ہو گئی۔ نتیجتاً آپ کے انتقال کے بعد خلافت کا دَور شروع ہو گیا‘ لیکن وہاں تین سو برس گزرنے کے بعد ان کا دَورِ خلافت آیا ہے۔ اس میں بھی تین خلافتیں تو متفق علیہ ہیں۔ یعنی حضرت طالوت ‘ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کی خلافت۔ لیکن چوتھی خلافت پر آ کر تقسیم ہو گئی۔ جیسے حضرت علی خلیفہ ٔرابع کے زمانے میں عالم ِاسلام منقسم ہو گیا کہ مصر اور شام نے حضرت علی کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا۔ اسی طرح فلسطین کی مملکت حضرت سلیمان کے دو بیٹوں میں تقسیم ہو گئی‘ اور اسرائیل اور یہودیہ کے نام سے دو ریاستیں وجود میں آ گئیں۔ قرآن حکیم میں اس مقام پر طالوت اور جالوت کی اس جنگ کا تذکرہ آ رہا ہے جس کے بعد تاریخ بنی اسرائیل میں اسلام کے غلبے اور خلافت ِراشدہ کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ در حقیقت صحابہ کرام کو ایک آئینہ دکھایا جا رہا ہے کہ اب یہی مرحلہ تمہیں در پیش ہے‘ غزوئہ بدر پیش آیا چاہتا ہے۔
آیت 243: اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ : «کیا تم نے ان لوگوں کے حال پر غور نہیں کیا جو نکل کھڑے ہوئے اپنے گھروں سے»
وَہُمْ اُلُوْفٌ : «جبکہ وہ ہزاروںکی تعدا د میں تھے»
حَذَرَ الْمَوْتِ : «موت کے ڈر کی وجہ سے۔ »
یعنی جب کفار اور مشرکین نے ان پر غلبہ کر لیا اور یہ دہشت زدہ ہو کر‘ اپنے ملک چھوڑ کر اپنے گھروں سے نکل بھاگے۔
فَقَالَ لَہُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْا : «تو اللہ نے ان سے کہا کہ مر جاؤ!»
ثُمَّ اَحْیَاہُمْ : «پھر (اللہ نے) انہیں زندہ کیا۔ »
یہاں موت سے مراد خوف اور بزدلی کی موت بھی ہو سکتی ہے جو اُن پر بیس برس طاری رہی‘ پھر سیموئیل نبی کی اصلاح و تجدید کی کوششوں سے ان کی نشأۃِ ثانیہ ہوئی اور اللہ نے ان کے اندر ایک جذبہ پیدا کر دیا۔ گویا یہاں پر موت اور احیاء سے مراد معنوی اور روحانی و اخلاقی موت اور احیاء ہے۔ لیکن بالفعل جسدی موت اور احیاء بھی اللہ کے اختیار سے باہر نہیں‘ اس کی قدرت میں ہے ‘وہ سب کو مار کر بھی دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَشْکُرُوْنَ : «یقینا اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ »
اکثر لوگ شکر گزاری کی روش اختیار کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے احسانات کی نا قدری کرتے ہیں۔