قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 211
سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُمْ مِنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ وَمَنْ يُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
بنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے ان کو کتنی ساری کھلی نشانیاں دی تھیں ! اور جس شخص کے پاس اﷲ کی نعمت آچکی ہو پھر وہ اس کو بدل ڈالے تو (اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ) اﷲ کا عذاب بڑا سخت ہے
آیت 211: سَلْ بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ کَمْ اٰتَـیْنٰہُمْ مِّنْ اٰیَۃٍ بَـیِّنَۃٍ : «پوچھ لو بنی اسرائیل سے ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں دیں۔ »
یعنی اے مسلمانو! دیکھو کہیں تم بھی ان ہی کے راستے پر نہ چلنا۔ جیسا کہ رسول اللہ نے آگاہ فرمایا تھا :
((لَـتَـتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْـلَـکُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ‘ حَتی لَــوْ سَلَـکُوْا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَـکْتُمُوْہُ)) قُلْنَا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ الْـیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی؟ قَالَ : ((فَمَنْ؟))
«تم لازماً اپنے سے پہلوں کے طور طریقوں کی پیروی کرو گے‘ بالشت کے مقابلے میں بالشت اور ہاتھ کے مقابلے میں ہاتھ۔ یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے بل میں گھسے ہوں گے تو تم بھی گھس کر رہو گے»۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہود و نصاریٰ کی؟ آپ نے فرمایا: «تو اور کس کی؟»
وَمَنْ یُّـبَـدِّلْ نِعْمَۃَ اللّٰہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَتْہُ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ : «اور جو کوئی بدل ڈالے اللہ کی نعمت کو‘ بعد اس کے کہ وہ اس کے پاس آ گئی ہو تو (وہ جان لے کہ) اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے۔ »
جو کوئی اللہ کی نعمت کو پانے کے بعد اس میں تبدیلی کرتا ہے ‘یا اس میں تحریف کرتا ہے یاخود غلط روش اختیار کرتا ہے تو اس کو جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس طرزِ عمل پر بہت سخت سزا دیتاہے۔ بنی اسرائیل ہی کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے کہ قرآن حکیم میں ان سے دو مرتبہ فرمایا گیا: یٰــبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَ نِّیْ فَضَّلْتُـکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ : (البقرۃ) «اے بنی اسرائیل! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت عطا کی تمام اہل ِعالم پر»۔ لیکن پھر ان ہی کے بارے میں فرمایا گیا: وَضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الذِّلَّــۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَبَـآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ : (البقرۃ: 61) «اور اُن پر ّذلت و خواری اور محتاجی و کم ہمتی تھوپ دی گئی اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے»۔ اور یہ مضمون بھی سورئہ آل عمران میں دوبارہ آئے گا۔