October 24, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 210

هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ

یہ (کفار ایمان لانے کیلئے) اس کے سوا کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اﷲ خود بادل کے سائبانوں میں ان کے سامنے آموجود ہو، اور فرشتے بھی (اس کے ساتھ ہوں ) اور سارا معاملہ ابھی چکا دیا جائے؟ حالانکہ آخر کار سارے معاملات اﷲ ہی کی طرف تو لوٹ کر رہیں گے

 آیت 210:   ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ :   «کیا یہ اسی کا انتظار کر رہے ہیں کہ آ جائے ان پر اللہ تعالی بادلوں کے سائبانوں میں اور فرشتے اور فیصلہ چکا دیا جائے؟»

      یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح احکامات اور تنبیہات آ جانے کے بعد بھی کج رَوی سے باز نہیں آتے تو کیا وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنا جلال دکھائے اور فرشتوں کی افواجِ قاہرہ کے ساتھ ظاہر ہو کر ان کا حساب چکا دے؟

       انسان کا نفس اسے ایک تو یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ دین کے اس حصے پر تو آرام سے عمل کرتے رہوجو آسان ہے‘ باقی پھر دیکھا جائے گا۔  گویا «میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو»۔  دوسری پٹی یہ پڑھاتا ہے کہ ٹھیک ہے یہ بھی اللہ کا حکم ہے اور دین کا بھی تقاضا ہے‘ لیکن ابھی ذرا ذمہ داریوں سے فارغ ہو جائیں‘ ابھی ذرا بچوں کے معاملات ہیں‘ بچے بر سر ِروزگار ہو جائیں‘ بچیوں کے ہاتھ پیلے ہو جائیں ‘ میں ریٹائرمنٹ لے لوں اور اپنا مکان بنا لوں‘ پھر میں اپنے آپ کو دین کے لیے خالص کر لوں گا۔  یہ نفس کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔  اس طرح وقت گزرتے گزرتے انسان موت کی وادی میں چلا جاتا ہے۔  کیا معلوم موت کی گھڑی کب آجائے! یہ مہلت ِعمر تو اچانک ختم ہو سکتی ہے۔  پوری دنیا کی قیامت بھی جب آئے گی اچانک آئے گی اور ہر شخص کی ذاتی قیامت تو اس کے سر پر تلوار کی طرح لٹکی ہوئی ہے۔  از روئے حدیث ِنبوی:

((مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِـیَامَتُہ)) 

«جو مر گیا تواس کی قیامت تو آ گئی!»

توکیا تمہارے پاس کوئی گارنٹی ہے کہ یہ سارے کام کر لو گے اور یہ سارے کام کر چکنے کے بعد زندہ رہو گے اور تمہارے جسم میں توانائی کی کوئی رمق بھی باقی رہ جائے گی کہ دین کا کوئی کام کر سکو؟ تو پھر تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟  ہو سکتا ہے اچانک اللہ کی طرف سے مہلت ختم ہو جائے۔  

      وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ :   «اور یقینا تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔ » 

UP
X
<>