October 24, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 212

زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ

جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کیلئے دنیوں زندگی بڑی دلکش بنادی گئی ہے اور وہ اہلِ ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ حالانکہ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے وہ قیامت کے دن ان سے کہیں بلندہوں گے اور اﷲ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے

 آیت 212:   زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا :   «ان کافروں کے لیے دنیا کی زندگی بڑی مزین کر دی گئی ہے»

            یہاں کی چمک دمک اور شان و شوکت ان کے لیے بڑی محبوب و دل پسند بنا دی گئی ہے۔  ویسے تو نئے ماڈل کی لمبی لمبی چمکیلی کاریں‘ اونچی اونچی عمارتیں اور وسیع و عریض کوٹھیاں کس کو اچھی نہیں لگتیں‘ لیکن کفار کے دلوں میں مال و اسبابِ دُنیوی کی محبت اتنی گھر کر جاتی ہے کہ پھر کوئی اچھی بات ان کی زندگی میں نہیں رہتی‘ اور نہ ہی کوئی اچھی بات ان کے اوپر اثر کرتی ہے۔  اہل ایمان کو بھی اگر ایمان کے ساتھ یہ نعمتیں ملیں تو یہ مستحسن ہیں۔  ازروئے الفاظِ  قرآنی:  قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ اَخْرَجَ لِعِبَادِہ وَالطَّـیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ :   (الاعراف: 32) «(اے نبی! ان سے) کہیے: کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں؟»اچھا کھانا‘ اچھا پینا‘ اچھا پہننا حرام نہیں ہے۔  اللہ نے اس کو لوگوں کے لیے ممنوع نہیں کیا۔ ایک مسلمان دین کے تقاضے ادا کر کے‘ اللہ کا حق ادا کر کے اور حلال سے کما کر ان چیزوں کو حاصل کرے تو کوئی حرج نہیں۔  لیکن اس کے ساتھ وہ حدیث بھی ذہن میں لے آیئے :  ((اَلدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّۃُ الْـکَافِرِ))    «دنیا مؤمن کے لیے ایک قید خانہ اور کافر کے لیے باغ ہے۔ »

      وَیَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا :   «اور وہ مذاق اڑاتے ہیں اہل ِایمان کا۔ »

    ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں کہ ذرا ان پاگلوں کو‘ ان بے وقوفوں کو‘ ان fanatics  کو دیکھو‘ جنہیں اپنے نفع و نقصان کا کچھ ہوش نہیں ہے۔

       وَالَّذِیْنَ اتَّـقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ :   «اور جن لوگوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تھی قیامت کے دن وہ ان کے اوپر ہوں گے۔ »

      وہ ان کافروں کے مقابلے میں عالی مرتبت اور عالی مقام ہوں گے‘ بلکہ سورۃ  المُطفّفین میں تو یہاں تک آیا ہے کہ جنت میں جانے کے بعد اہل ِایمان کفار ّکا مذاق اڑائیں گے۔

      وَاللّٰہُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ :   «اور اللہ تعالیٰ رزق عطا فرمائے گا جس کو چاہے گا بے حساب۔ »

      یہ جنت کی طرف اشارہ ہے۔  اب پھر ایک طویل آیت آ رہی ہے جس میں ایک اہم مضمون بیان ہو رہا ہے۔  میں نے عرض کیا تھا کہ سورۃ البقرۃ میں جابجا علم و حکمت اور معرفت ِالٰہی کے بڑے حسین اور خوش نما پھول آئے ہیں جواس بنتی میں بن دیے گئے ہیں۔  دو لڑیاں شریعت کی ہیں‘ یعنی عبادات اور معاملات ‘ جبکہ دو لڑیاں جہاد کی‘ یعنی جہاد بالمال (انفاق) اور جہاد بالنفس (قتال) ‘ اور ان کے درمیان یہ عظیم پھول آ جاتے ہیں۔  اس آیت کو میں نے «آیت الاختلاف» کا عنوان دیا ہے۔  اس میں بیان کیا گیا ہے کہ لوگوں کے درمیان اختلاف کیوں ہوتا رہا ہے‘ اور یہ بہت اہم مضمون ہے۔  اس لیے کہ دنیا میں وحدتِ ادیان کا جو فلسفہ کچھ لوگوں کی طرف سے پیش ہوتا ہے اس کا ایک حصہ صحیح ہے اور ایک حصہ ّغلط ہے۔  صحیح کون سا ہے اور غلط کون سا ہے ‘وہ اس آیت سے معلوم ہوگا۔ 

UP
X
<>