قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 209
فَإِنْ زَلَلْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
پھر جو روشن دلائل تمہارے پاس آچکے ہیں اگر تم ان کے بعد بھی (راہِ راست سے) پھسل گئے تو یاد رکھو کہ اﷲ اقتدار میں بھی کامل ہے اور حکمت میں بھی کامل
آیت 209: فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَا جَآءَتْکُمُ الْبَـیِّنٰتُ : «پھر اگر تم پھسل گئے اس کے بعد بھی کہ تمہار ے پاس یہ واضح تعلیمات آ چکی ہیں»
فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَزِیْـزٌ حَکِیْمٌ : «تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست ہے‘ حکمت والا ہے۔ »
اس میں تہدید اور دھمکی کا پہلو ہے کہ پھر اللہ کی پکڑ بھی بہت سخت ہو گی۔ اور پھر یہ کہ وہ حکیم بھی ہے‘ اس کی پکڑ میں بھی حکمت ہے‘ اگر اس کی طرف سے پکڑ کا معاملہ نہ ہو تو پھر دین کا پورا نظام بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر اللہ کی طرف سے کسی گناہ پر پکڑ ہی نہیں ہے تو پھر یہ آزمائش کیا ہوئی؟ پھر جزا و سزا اور جنت و دوزخ کا معاملہ کیا ہوا؟