قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 208
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ
اے ایمان والو ! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ یقین جانو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
آیت 208: یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً : «اے اہل ِایمان! اسلام میں داخل ہو جاؤ پورے کے پورے۔ »
اہل ِایمان سے اب وہ بات کہی جا رہی ہے جس کا معکوس (converse) ہم بنی اسرائیل سے خطاب کے ذیل میں (آیت: 85 میں) پڑھ چکے ہیں :
اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَـکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِ .
«کیا تم ہماری کتاب (اور دین و شریعت) کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو ردّ کر دیتے ہو؟ سوجو کوئی بھی تم میں سے یہ روش اختیار کریں ان کی کوئی سزا اس کے سوا نہیں ہے کہ دنیا میں ذلت‘ وخواری ان پر مسلط کر دی جائے اور قیامت کے دن ان کو شدید ترین عذاب میں جھونک دیا جائے۔ »
اب مثبت پیرائے میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی اطاعت میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ
تحفظات(reservations) اور استثناءات (exceptions) کے ساتھ نہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ ہو کہ اللہ کی بندگی تو کرنی ہے ‘ مگر فلاں معاملے میں نہیں۔ اللہ کا حکم تو ماننا ہے لیکن یہ حکم میں نہیں مان سکتا۔ اللہ کے احکام میں سے کسی ایک کی نفی سے کل کی نفی ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ جزوی اطاعت قبول نہیں کرتا۔
وََلاَ تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ : «اور شیطان کے نقش ِقدم کی پیروی نہ کرو۔ »
اِنَّہ لَـکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ : «وہ تو یقینا تمہارا بڑا کھلا دشمن ہے۔ »