October 24, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 204

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ

اور لوگوں میں ایک وہ شخص بھی ہے کہ دنیوی زندگی کے بارے میں اس کی باتیں تمہیں بڑی اچھی لگتی ہیں اور جو کچھ اس کے دل میں ہے اس پر وہ اﷲ کو گواہ بھی بناتا ہے، حالانکہ وہ (تمہارے) دشمنوں میں سب سے زیادہ کٹر ہے

آیت 204:    وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُکَ قَوْلُہ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا :   «اور لوگوں میں سے کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کی باتیں تمہیں بہت اچھی لگتی ہیں دنیا کی زندگی میں»۔

            یہ منافقین میں سے ایک خاص گروہ کا تذکرہ ہو رہا ہے۔  منافقین میں سے بعض تو ایسے تھے کہ ان کی زبانوں پر بھی نفاق واضح طور پر ظاہر ہو جاتا تھا‘ جبکہ منافقین کی ایک قسم وہ تھی کہ بڑے چاپلوس اور چرب زبان تھے ۔  ان کی گفتگو ایسی ہوتی تھی گویا وہ تو بڑے ہی مخلص اور بڑے ہی فدا کار ہیں۔  اپنا موقف اس انداز سے پیش کرتے کہ یوں لگتا تھا کہ بڑی ہی نیک نیتی پر مبنی ہے‘ لیکن ان کا کردار انتہائی گھناؤنا تھا۔  ان کی ساری بھاگ دوڑ رسول اللہ  اور اسلام کی مخالفت کی راہ میں ہوتی تھی۔  ان کے بارے میں فرمایا کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت اچھی لگتی ہیں۔  

             وَیُشْہِدُ اللّٰہَ عَلٰی مَا فِیْ قَلْبِہ :   «اور وہ اللہ کو بھی گواہ ٹھہراتا ہے اپنے دل کی بات پر۔ »

            اس کا اندازِ کلام یہ ہوتا ہے کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اللہ جانتا ہے کہ خلوص سے کہہ رہا ہوں‘ پوری نیک نیتی سے کہہ رہا ہوں۔ منافق کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو قابل اعتبار ثابت کرنے کے لیے بات بات پر قسم کھاتا ہے۔

             وَہُوَ اَلَـدُّ الْخِصَامِ :   «حالانکہ فی الواقع وہ شدید ترین دشمن ہے۔ » 

UP
X
<>