October 24, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 203

وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

اور اﷲ کو گنتی کے (ان چند) دنوں میں (جب تم منیٰ میں مقیم ہو) یاد کرتے رہو، پھر جو شخص دوہی دن میں جلدی چلا جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے اور جو شخص (ایک دن) بعد میں جائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۔ یہ (تفصیل) اس کیلئے ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور تم سب تقویٰ اختیار کرو اور یقین رکھو کہ تم سب کو اسی کی طرف لے جا کر جمع کیا جائے گا

  آیت  203:    وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْ اَ یَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ :   «اور ذکر کرو اللہ کا گنتی کے چند دنوں میں۔ »

            اس سے مراد ذو الحجہ کی گیارہویں‘ بارہویں اور تیرہویں تاریخیں ہیں جن میں یومِ نحر کے بعد منیٰ میں قیام کیا جاتا ہے۔  اِن تین دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور ہر نماز کے بعد تکبیر کہنے کا حکم ہے۔  دیگر اوقات میں بھی اِن دنوں میں تکبیر اور ذکر ِالٰہی کثرت سے کرنا چاہیے۔

             فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ:   «تو جو کوئی دو دن ہی میں جلدی سے واپس آ جائے تواس پر کوئی گناہ نہیں۔ »

            یعنی جو کوئی تین دن پورے نہیں کرتا‘ بلکہ دو دن ہی میں واپسی اختیار کر لیتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔

             وَمَنْ تَاَخَّرَ :   «اور جو پیچھے رہے»

            یعنی منیٰ میں ٹھہرا رہے اور تین دن کی مقدار پوری کرے۔

             فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی :   «تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں‘ بشرطیکہ وہ تقویٰ اختیارکرے۔ »

            اصل چیز تقویٰ ہے ۔  جو کوئی زمانہ حج میں پرہیزگاری کی روش اختیار کیے رکھے تو اس پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ منیٰ میں دو دن قیام کرے یا تین دن۔  اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا اجر محفوظ ہے۔  اگر کسی شخص نے منیٰ میں قیام تو تین دن کا کیا‘ لیکن تیسرے دن اُس نے کچھ اور ہی حرکتیں شروع کر دیں‘ اس لیے کہ جی اکتایا ہوا ہے اور طبیعت کے اندر ٹھہراؤنہیں ہے تو وہ تیسرا دن اس کے لیے کچھ خاص مفید ثابت نہیں ہو گا۔  اصل شے جو اللہ کے ہاں قبولیت کے لیے شرطِ لازم ہے ‘وہ تقویٰ ہے۔  آگے پھر فرمایا:

             وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّــکُمْ اِلَـیْہِ تُحْشَرُوْنَ :   «اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور خوب جان رکھو کہ یقینا تمہیں اُسی کی جانب جمع کر دیا جائے گا۔ »

            تم سب کے سب ہانک کر اُسی کی جناب میں لے جائے جاؤ گے۔ 

UP
X
<>