October 24, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 200

فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ

پھر جب تم اپنے حج کے کام پورے کر چکو تو اﷲ کا اس طرح ذکر کرو جیسے تم اپنے باپ دادوں کا ذکر کیا کرتے ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ ذکر کرو۔ اب بعض لوگ تو وہ ہیں جو (دعا میں بس) یہ کہتے ہیں کہ :’’اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما ‘‘ اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوتا

 آیت 200:    فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِکَکُمْ :   «اور جب تم اپنے مناسکِ حج ادا کر چکو»

       فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَـآئَکُمْ :   «تو اب اللہ کا ذکر کرو جیسے کہ تم اپنے آباء و اَجداد کا ذکر کرتے رہے ہو»

       اَوْ اَشَدَّ ذِکْرًا :   «بلکہ اس سے بھی زیادہ شد ومد کے ساتھ اللہ کا ذکر کرو۔ »  

      یعنی دسویں ذوالحجہ کو جب افعالِ حج سے فراغت پا چکو تو قیامِ منیٰ کے دوران اللہ کا خوب ذکر کرو جیسے ٔزمانہ جاہلیت میں اپنے آباء و اَجداد کا ذکر کیا کرتے تھے ‘ بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر اللہ کا ذکر کرو۔  ان کا قدیم دستور تھا کہ حج سے فارغ ہو کر تین دن منیٰ میں قیام کرتے اور بازار لگاتے۔  وہاں میلے کا سا سماں ہوتا جہاں مختلف قبائل کے شعراء اپنے قبیلوں کی مدح سرائی کرتے تھے اور اپنے اسلاف کی عظمت بیان کرتے تھے۔  اللہ کا ذکر ختم ہو چکا تھا۔  فرمایا کہ جس شدو مد ّکے ساتھ تم اپنے آباء و اَجداد کا ذکر کرتے رہے ہو اب اسی انداز سے ‘بلکہ اُس سے بھی زیادہ شدومد ّکے ساتھ ‘اللہ کا ذکر کرو۔

      فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ رَبَّـنَـآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَمَا لَـہ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلاَقٍ :   «لوگوں میں سے وہ بھی ہیں جو یہی کہتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! ہمیں دنیا ہی میں دے دے‘ اور ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ »

        یعنی ارضِ حرم میں پہنچ کر دورانِ حج بھی اُن کی ساری دُعائیں دُنیوی چیزوں ہی کے لیے ہیں۔  چنانچہ وہ مال کے لیے‘ اولاد کے لیے‘ ترقی کے لیے‘ دُنیوی ضروریات کے لیے اور اپنی مشکلات کے حل کے لیے دعا کرتے ہیں۔  اس لیے کہ ان کے دلوں میں دنیا رَچی بسی ہوئی ہے۔  جیسے بنی اسرائیل کے دلوں میں بچھڑے کا تقدس اور اس کی محبت جا گزیں کر دی گئی تھی اُسی طرح ہمارے دلوں میں دنیا کی محبت گھر کر چکی ہے ‘ لہٰذا وہاں جا کر بھی دنیا ہی کی دعائیں مانگتے ہیں۔  یہاں واضح فرما دیا گیا کہ ایسے لوگوں کے لیے پھر آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ 

UP
X
<>