October 24, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 199

ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

اس کے علاوہ (یہ بات بھی یاد رکھو کہ) تم اسی جگہ سے روانہ ہو جہاں سے عام لوگ روانہ ہوتے ہیں اور اﷲ سے مغفرت مانگو، بیشک اﷲ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے

آیت 199:   ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ : «پھر تم بھی وہیں سے پلٹو جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں»

            زمانہ ٔ جاہلیت میں قریش ِمکہ ّعرفات تک نہ جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری خاص حیثیت ہے‘ لہٰذا ہم منیٰ ہی میں مقیم رہیں گے‘ باہر سے آنے والے لوگ عرفات جائیں اور وہاں سے طواف کے لیے واپس لوٹیں‘ یہ سارے مناسک ہمارے لیے نہیں ہیں۔ یہاں فرمایا گیا کہ یہ ایک غلط بات ہے جو تم نے ایجاد کر لی ہے۔ تم بھی وہیں سے طواف کے لیے واپس لوٹو جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں‘ یعنی عرفات سے۔

            وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰہَ : «اور اللہ سے استغفار کرتے رہو۔ »

            اپنی اگلی تقصیر پر نادم ہو اور اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہو۔

            اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْم : «یقینا اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ »

UP
X
<>