October 24, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 201

وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

 

اور انہی میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ : ’’ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے ۔‘‘

 

 آیت  201:    وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّـقُوْلُ :   «اور اُن میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں»

      رَبَّـنَـآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ :   «پروردگار! ہمیں اس دنیا میں بھی خیر عطا فرما اور آخرت میں بھی خیر عطا فرما اور ہمیں بچا لے آگ کے عذاب سے۔ »

       یہی وہ دعا ہے جو طواف کے ہر چکر میں رکن ِیمانی سے حجر ِاَسود کے درمیان چلتے ہوئے مانگی جاتی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا خیر ایمان اور ہدایت ہے۔  دنیا کا کوئی خیر خیر نہیں ہے جب تک کہ اس کے ساتھ ہدایت اور ایمان نہ ہو۔  چنانچہ سب سے پہلے انسان ہدایت‘ ایمان اور استقامت طلب کرے‘ پھر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دنیا میں کشادگی اور رزق میں کشائش کی دعا بھی کرے تو یہ بات پسندیدہ ہے۔  

UP
X
<>