October 24, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 198

لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ

تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم (حج کے دوران تجارت یا مزدوری کے ذریعے) اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو ۔ پھر جب تم عرفات سے روانہ ہو تو مشعرِ حرام کے پاس (جو مزدلفہ میں واقع ہے) اﷲ کا ذکر کرو، اور اس کا ذکر اسی طرح کرو جس طرح اس نے تمہیں ہدایت کی ہے ۔ جب کہ اس سے پہلے تم بالکل ناواقف تھے

آیت 198:   لَـیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَـبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ: «تم پر اس امر میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم (سفر حج کے دوران) اپنے ربّ کا فضل بھی تلاش کرو۔ »

            آدمی ہندوستان سے یا پاکستان سے حج کے لیے جا رہا ہے اور وہ اپنے ساتھ کچھ ایسی اجناس لے جائے جنہیں وہاں پر بیچ کر کچھ نفع حاصل کر لے تو یہ تقویٰ کے منافی نہیں ہے۔

            فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰـتٍ فَاذْکُرُوا اللّٰہَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ: «پس جب تم عرفات سے واپس لوٹو تو اللہ کو یاد کرو مشعر ِحرام کے نزدیک۔ »

            وقوفِ عرفات حج کا رکن ِاعظم ہے۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے: ((اَلْحَجُّ عَرَفَۃُ)) یعنی اصل حج تو عرفہ ہی ہے۔ اگر کسی سے حج کے باقی تمام مناسک رہ جائیں‘ صرف قیامِ عرفہ میں شمولیت ہو جائے تو اس کا حج ہو گیا‘ باقی جو چیزیں رہ گئی ہیں ان کا کفارہ ادا کیا جائے گا ۔ لیکن اگر کوئی شخص عرفات کے قیام میں ہی شریک نہیں ہوا تو پھر اس کا حج نہیں ہوا۔ ایّامِ حج کا ٹائم ٹیبل نوٹ کیجیے کہ ۸ ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ سے نکل کر رات منیٰ میں گزارنا ہوتی ہے۔ اگلا دن ۹ ذوالحجہ یومِ عرفہ ہے۔ اس روز صبح کو عرفات کے لیے قافلے چلتے ہیں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ دوپہر سے پہلے وہاں پہنچ جایا جائے۔ وہاں پر ظہر کے وقت ظہر اور عصر دونوں نمازیں ملا کر پڑھی جاتی ہیں۔ اس کے بعد سے غروبِ آفتاب تک عرفات کا قیام ہے‘ جس میں کوئی نمازنہیں۔ یعنی روایتی عبادت کے سب دروازے بند ہیں۔ اب تو صرف دعا ہے۔ اگر آپ کے اندر دعا کی ایک روح پیدا ہو چکی ہے‘ آپ اپنے ربّ سے ہم کلام ہو سکتے ہیں اور آپ کو حلاوتِ مناجات حاصل ہو گئی ہے تو بس دعا مانگتے رہیے۔ قیامِ عرفہ کے دوران کھڑے ہو کر یا بیٹھے ہوئے‘ جس طرح بھی ہو اللہ سے مناجات کی جائے۔ یا اس میں اگر کسی وجہ سے کمی ہو جائے تو آدمی تلاوت کرے۔ لیکن عام نماز اب کوئی نہیں۔ ۹ ذوالحجہ کو وقوفِ عرفات کے بعد مغرب کی نماز کا وقت ہو چکنے کے بعد عرفات سے روانگی ہے‘ لیکن وہاں مغرب کی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ اب مزدلفہ میں جا کر مغرب اور عشاء دونوں نمازیں جمع کر کے ادا کرنی ہیں اور رات وہیں کھلے آسمان تلے بسر کرنی ہے۔ یہ مزدلفہ کا قیام ہے۔ مشعر ِحرام ایک پہاڑ کا نام ہے جو مزدلفہ میںواقع ہے۔

            وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ہَدٰيکُمْ: «اور یاد کرو اُسے جیسے کہ اُس نے تمہیں ہدایت کی‘ہے۔ »

            یعنی اللہ کا ذکر کرو جس طرح اللہ نے تمہیں اپنے رسول کے ذریعے سکھایا ہے۔ ذکر کے جو طور طریقے رسول اللہ نے سکھائے ہیں انہیں اختیار کرو اور زمانہ ٔجاہلیت کے طریقے ترک کر دو۔

            وَاِنْ کُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ : «اور یقینا اس سے پہلے تو تم گمراہ لوگوں میں سے تھے۔ »

            تم حج کی حقیقت سے نا واقف تھے۔ حج کی بس شکل باقی رہ گئی تھی‘ اس کی روح ختم ہو گئی تھی‘ اس کے مناسک میں بھی ردّوبدل کر دیا گیا تھا۔

UP
X
<>