October 25, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 197

الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى وَاتَّقُونِ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ

حج کے چند متعین مہینے ہیں چنانچہ جو شخص ان مہینوں میں (احرام باندھ کر) اپنے اوپر حج لازم کر لے تو حج کے دوران نہ وہ کوئی فحش بات کرے نہ کوئی گناہ، نہ کوئی جھگڑا ۔ اور تم جو کوئی نیک کام کروگے اﷲ اسے جان لے گا اور (حج کے سفر میں ) زادِ راہ ساتھ لے جایا کرو، کیونکہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے اور اے عقل والو ! میری نافرمانی سے ڈرتے رہو

آیت 197:    اَلْحَجُّ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ:   حج کے معلوم مہینے ہیں۔   

            یعنی عرب میں جو بھی پہلے سے رواج چلا آ رہا تھا اُس کی توثیق فرما دی گئی کہ واقعی حج کے مواقیت کا تعین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

             فَمَنْ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ:   تو جس نے اپنے اوپر لازم کر لیا ان مہینوں میں حج کو،  

            لازم کرنے سے مراد حج کا عزم اور نیت پختہ کرنا ہے اور اس کی علامت احرام باندھ لینا ہے۔

             فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوْقَ وَلاَ جِدَالَ فِی الْْحَجِّ:   تو (اس کو خبردار رہنا چاہیے کہ) دورانِ حج نہ تو شہوت کی کوئی بات کرنی ہے،  نہ فسق و فجور کی اور نہ لڑائی جھگڑے کی۔   

            زمانہ ٔحج میں جن باتوں سے روکا گیا ہے ان میں اوّلین یہ ہے کہ شہوت کی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔  میاں بیوی بھی اگر ساتھ حج کر رہے ہوں تو احرام کی حالت میں ان کے لیے وہی قید ہے جو اعتکاف کی حالت میں ہے۔  باقی یہ کہ فسوق و جدال یعنی اللہ کی نافرمانی اور باہم لڑائی جھگڑا تو ویسے ہی نا جائز ہے،  دورانِ حج اس سے خاص طور پر روک دیا گیا۔  اس لیے کہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے،  سفر میں بھی لوگ ساتھ ہوتے ہیں۔  اس حالت میں لوگوں کے غصوں ّکے پارے جلدی چڑھ جانے کا امکان ہوتا ہے۔  لہٰذا اس سے خاص طو رپر روکا گیا تاکہ مناسک ِحج کی ادائیگی کے دوران امن اور سکون ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ آج بھی یہ بات معجزات میں سے ہے کہ دنیا بھر سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے جمع ہونے کے باوجود وہاں امن و سکون رہتا ہے اور جنگ و جدال اور جھگڑا و فساد وغیرہ کہیں نظر نہیں آتا۔  مجھے الحمد للہ پانچ چھ مرتبہ حج کی سعادت حاصل ہوئی ہے،  لیکن وہاں پر جھگڑا اور گالم گلوچ کی کیفیت میں نے کبھی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔  

             وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ:   اور نیکی کے جو کام بھی تم کرو گے اللہ اس کو جانتا ہے۔   

            حج کے دوران مناسک ِحج پر مستزاد جو بھی نیکی کے کام کر سکو،  مثلاً نوافل پڑھو یا اضافی طواف کرو تو تمہاری یہ نیکیاں اللہ کے علم میں ہوں گی،  کسی اور کو دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔  

             وَتَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی:   اور زادِ راہ ساتھ لے لیا کرو،  یقینا بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔   

            اس کے دو معنی لیے گئے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔  یعنی سفر ِحج میں مادی زادِ راہ کے علاوہ تقویٰ کی پونجی بھی ضروری ہے۔  اگر آپ نے اخراجاتِ سفر کے لیے روپیہ پیسہ تو وافر لے لیا،  لیکن تقویٰ کی پونجی سے تہی دامن رہے تو دورانِ حج اچھی سہولیات تو حاصل کر لیں گے مگر حج کی روح اور اس کی برکات سے محروم رہیں گے۔

            لیکن اس کا ایک دوسرا مفہوم بھی بہت اہم ہے کہ اگر انسان خود اپنا زادِ راہ ساتھ نہ لے تو پھر وہاں دوسروں سے مانگنا پڑتا ہے۔  اس طرح یہاں « تقویٰ»  سے مراد سوال سے بچنا ہے۔  یعنی بہتر یہ ہے کہ زادِ راہ لے کر چلو تاکہ تمہیں کسی کے سامنے سائل نہ بننا پڑے۔  اگر تم صاحب ِاستطاعت نہیں ہو تو حج تم پر فرض ہی نہیں ہے۔  اور ایک شے جو تم پر فرض نہیں ہے اس کے لیے خواہ مخواہ وہاں جا کر بھیک مانگنا یا یہاں سے بھیک مانگ کر یا چندہ اکٹھا کر کے جانا قطعاً غلط حرکت ہے۔

             وَاتَّقُوْنِ یٰٓــاُولِی الْاَلْبَابِ:   اور میرا ہی تقویٰ اختیار کرو اے ہوش مندو !  

UP
X
<>