April 19, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 186

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ

اور (اے پیغمبر !) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (آپ ان سے کہہ دیجئے کہ) میں اتنا قریب ہوں کہ جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں ۔ لہٰذا وہ بھی میری بات دل سے قبول کر یں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ راہِ راست پر آجائیں

آیت 186:    وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ:   اور (اے نبی !) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو (ان کو بتا دیجیے کہ) میں قریب ہوں۔   

            میرے نزدیک یہ دنیا میں حقوقِ انسانی کا سب سے بڑا منشور (Magna Carta) ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان کوئی فصل نہیں ہے۔  فصل اگر ہے تو وہ تمہاری اپنی خباثت ہے۔  اگر تمہاری نیت میں فساد ہے کہ حرام خوری تو کرنی ہی کرنی ہے تو اب کس منہ سے اللہ سے دعا کرو گے؟ لہٰذا کسی پیر کے پاس جاؤ گے کہ آپ دعا کر دیجیے،  یہ نذرانہ حاضر ہے۔  بندے اور خدا کے درمیان خود انسان کا نفس حائل ہے اور کوئی نہیں،  ورنہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ تو یہ ہے کہ:

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی  سائل  ہی  نہیں 

راہ دکھلائیں کسے ،  راہ روِ منزل ہی نہیں!

اُس تک پہنچنے کا واسطہ کوئی پوپ نہیں،  کوئی پادری نہیں،  کوئی پنڈت نہیں،  کوئی پروہت نہیں،  کوئی پیر نہیں۔  جب چاہو اللہ سے ہم کلام ہو جاؤ ۔  علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:

کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے؟

پیرانِ  کلیسا   کو  کلیسا  سے  اٹھا    دو!

اللہ تعالیٰ نے  واضح فرما دیا ہے کہ میرا ہر بندہ جب چاہے،  جہاں چاہے مجھ سے ہم کلام ہو سکتا ہے۔  

             اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ:   میں تو ہر پکار نے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی (اور جہاں بھی) وہ مجھے پکارے ،

             «اجابت»  کے مفہوم میں کسی کی پکار کا سننا،  اس کا جواب دینا اور اسے قبول کرنا،  یہ تینوں چیزیں شامل ہیں۔  لیکن اس کے لیے ایک شرط عائد کی جا رہی ہے :

             فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ:   پس انہیں چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں،  

             وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ:   اور مجھ پر ایمان رکھیں،  

یہ یک طرفہ بات نہیں ہے،  بلکہ یہ دو طرفہ معاملہ ہے۔  جیسے ہم پڑھ چکے ہیں:  فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ.   «پس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا تم میرا شکر کرو گے تو میں تمہاری قدردانی کروں گا»۔  تم میری طرف چل کر آؤ گے تو میں دوڑ کر آؤں گا۔  تم بالشت بھر آؤ گے تو میں ہاتھ بھر آؤں گا ۔ لیکن اگر تم رُخ موڑ لو گے تو ہم بھی رُخ موڑ لیں گے۔  ہماری تو کوئی غرض نہیں ہے،  غرض تو تمہاری ہے۔  تم رجوع کرو گے تو ہم بھی رجوع کریں گے۔  تم توبہ کرو گے تو ہم اپنی نظرِ کرم تم پر :متوجہ کر دیں گے۔  سورئہ محمد میں الفاظ آئے ہیں:  اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ .  (آیت 7) « اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا »۔  لیکن اگر تم اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاؤ،  ان کے ساتھ تمہاری ساز باز ہواور کھڑے ہو جاؤ قنوتِ نازلہ میں اللہ سے مدد مانگنے کے لیے تو تم سے بڑا بے وقوف کون ہو گا؟ پہلے اللہ کی طرف اپنا رُخ تو کرو،  اللہ سے اپنا معاملہ تو درست کرو۔  اس میں یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ پہلے ولی ٔکامل بن جاؤ،  بلکہ اُسی وقت خلوصِ نیت سے توبہ کرو،  سارے پردے ہٹ جائیں گے۔ آیت کے آخرمیں فرمایا:

             لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ:   تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں۔   

            اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور اس کے احکام  پر چلنے کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ وہ رشد و ہدایت کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔

UP
X
<>