April 19, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

رمضان کامہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کیلئے سراپا ہدایت اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے جو صحیح راستہ دکھاتی اور حق وباطل کے درمیان دوٹوک فیصلہ کر دیتی ہیں ۔ لہٰذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے وہ اس میں ضرور روزہ رکھے اور اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہوتو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعدا د پوری کر لے ۔ اﷲ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے اور تمہارے لئے مشکل پیدا کرنا نہیں چاہتا تاکہ (تم روزوں کی) گنتی پوری کر لو اور اﷲ نے تمہیں جو راہ دکھائی اس پر اﷲ کی تکبیر کہواور تاکہ تم شکر گزار بنو

اب وہ آیات آ رہی ہیں جو خاص رمضان کے روزے سے متعلق ہیں۔  ان میں سے دو آیات میں روزے کی حکمت اور غرض و غایت بیان کی گئی ہے۔  پھر ایک طویل آیت روزہ کے احکام پر مشتمل ہے اور آخر میں ایک آیت گویا لٹمس ٹیسٹ ہے۔  

 آیت 185:    شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ:   رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا،  

             ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ:   لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اور ہدایت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کی روشن دلیلوں کے ساتھ۔   

             فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ:   تو جو کوئی بھی تم میں سے اس مہینے کو پائے (یا جو شخص بھی اس مہینے میں مقیم ہو) اس پر لازم ہے کہ روزہ رکھے۔   

            اب وہ وجوب علی التخییر ّکا معاملہ ختم ہو گیا اور وجوب علی التعیین ہو گیا کہ یہ لازم ہے ،  یہ رکھنا ہے۔  

             وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ:   اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ تعداد پوری کر لے دوسرے دنوں میں۔   

            یہ رعایت حسب سابق بر قرار رکھی گئی ۔

             یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ:   اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ سختی نہیں چاہتا۔   

            لوگ خواہ مخواہ اپنے اوپر سختیاں جھیلتے ہیں،  شدید سفر کے اندر بھی روزے رکھتے ہیں،  حالانکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنے کی اجازت دی ہے۔  رسول اللہ  نے ایک سفر میں ان لوگوں پر کافی سرزنش کی جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔  آپ صحابہ کرام  کے ہمراہ جہاد و قتال کے لیے نکلے تھے کہ کچھ لوگوں نے اس سفر میں بھی روزہ رکھ لیا۔  نتیجہ یہ ہوا کہ سفر کے بعد جہاں منزل پر جا کر خیمے لگانے تھے وہ نڈھال ہو کر گر گئے اور جن لوگوں کا روزہ نہیں تھا انہوں نے خیمے لگائے۔  اس پر رسول اللہ  نے فرمایا:  ((لَـیْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِی السَّفَرِ))  «سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں ہے »۔  لیکن ہمارا نیکی کا تصور مختلف ہے۔  کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ خواہ 105 بخار چڑھا ہوا ہو وہ کہیں گے کہ روزہ تو میں نہیں چھوڑوں گا۔  حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی رعایت سے فائدہ نہ اٹھانا ایک طرح کا کفرانِ نعمت ہے۔  

             وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ:    تاکہ تم تعداد پوری کرو،  

            مرض یا سفر کے دوران جو روزے چھوٹ جائیں تمہیں دوسرے دنوں میں ان کی تعداد پوری کرنی ہو گی۔  وہ جو ایک رعایت تھی کہ فدیہ دے کر فارغ ہو جاؤ وہ اب منسوخ ہو گئی۔

             وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ہَدٰٹکُمْ:   اور تاکہ تم بڑائی کرو اللہ کی اس پر جو ہدایت اُس نے تمہیں بخشی ہے،   

              وَلَـعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ:   اور تاکہ تم شکر کر سکو۔   

            وہ نعمت ِعظمیٰ جو قرآن حکیم کی شکل میں تمہیں دی گئی ہے،  تم اس کا شکر ادا کرو۔  اس موضوع پر میرے دو کتابچوں «عظمت ِصوم»  اور  «عظمت ِصیام و قیامِ رمضانِ مبارک»  کا مطالعہ مفید ثابت ہو گا۔  ان میں یہ سارے مضامین تفصیل سے آئے ہیں کہ روزے کی کیا حکمت ہے،  کیا غرض و غایت ہے،  کیا مقصد ہے اور آخری منزل کیا ہے۔  مطلوب تو یہ ہے کہ تمہارا یہ جو جسم ِحیوانی ہے،  یہ کچھ کمزور پڑے اور روحِ ربانی جو تم میں پھونکی گئی ہے اسے تقویت حاصل ہو۔  چنانچہ دن میں روزہ رکھو اور اس حیوانی وجود کو ذرا کمزور کرو،  اس کے تقاضوں کو دباؤ۔  پھر راتوں کو کھڑے ہو جاؤ اور اللہ کا کلام سنو اور پڑھو،  تاکہ تمہاری روح کی آبیاری ہو،  اس پر آبِ حیات کا ترشح ہو۔  نتیجہ یہ نکلے گا کہ خود تمہارے اندر سے تقرب ّالی اللہ کی ایک پیاس اُبھرے گی۔ 

UP
X
<>