قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 180
كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ
تم پر فرض کیا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی اپنے پیچھے مال چھوڑ کر جانے والا ہو تو جب اس کی موت کا وقت قریب آجائے، وہ اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے حق میں دستور کے مطابق وصیت کرے ۔ یہ متقی لوگو ں کے ذمے ایک لازمی حق ہے
آیت 180: کُتِبَ عَلَیْکُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَکَ خَیْرَ الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ: جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ پہنچے اور وہ کچھ مال چھوڑ رہا ہو تو تم پر فرض کر دیا گیا ہے والدین اور رشتہ داروں کے حق میں انصاف کے ساتھ وصیت ّکرنا۔
ابھی قانونِ وراثت نازل نہیں ہوا تھا، اس ضمن میں یہ ابتدائی قدم اٹھایا گیا۔ دورِ جاہلیت میں وراثت کی تقسیم اس طرح ہوتی تھی جیسے آج بھی ہندوؤں میں ہوتی ہے، کہ مرنے والے کی ساری جائیداد کا مالک بڑا بیٹا بن جاتا تھا۔ اس کی بیوی، بیٹیاں، حتیٰ کہ دوسرے بیٹے بھی وراثت سے محروم رہتے۔ چنانچہ یہاں وراثت کے بارے میں پہلا حکم دیا گیا کہ مرنے والا والدین اور اقرباء کے بارے میں وصیت کر جائے تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔ پھر جب سورۃ النساء میں پورا قانونِ وراثت آ گیا تو اب یہ آیت منسوخ شمار ہوتی ہے۔ البتہ اس کے ایک جزو کو رسول اللہ نے باقی رکھا ہے کہ مرنے والا اپنے ایک تہائی مال کے بارے میں وصیت کر سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں، اور یہ کہ جس شخص کا وراثت میں حق مقرر ہو چکا ہے، اُس کے لیے وصیت نہیں ہوگی۔ وصیت غیر وارث کے لیے ہو گی۔ مرنے والا کسی یتیم کو، بیوہ کو، کسی یتیم خانہ کو یا کسی دینی ادارے کو اپنی وراثت میں سے کچھ دینا چاہے تو اسے حق حاصل ہے کہ ایک تہائی کی وصیت کر دے۔ باقی دو تہائی میں لازمی طور پر قانونی وراثت کی تنفیذ ہو گی۔
حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ: اللہ تعالیٰ کا تقویٰ رکھنے والوں پر یہ حق ہے۔
ان پر واجب اور ضروری ہے کہ وہ وصیت کر جائیں کہ ہمارے والدین کو یہ مل جائے، فلاں رشتہ دار کو یہ مل جائے، باقی جو بھی ورثاء ہیں ان کے حصے میں یہ آ جائے۔