قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 179
وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَاأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اور اے عقل رکھنے والو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی (کا سامان ہے) امید ہے کہ تم (اس کی خلاف ورزی سے) بچو گے
آیت 179: وَلَـکُمْ فِی الْْقِصَاصِ حَیٰوۃٌ یّٰاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَـتَّقُوْنَ: اور اے ہوش مندو! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، تاکہ تم بچ سکو۔
معاشرتی زندگی میں عفو و درگزر اگرچہ ایک اچھی قدر ہے اور اسلام اس کی تعلیم دیتا ہے: وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. (التغابن) «اور اگر تم معاف کر دیا کرو اور چشم پوشی سے کام لو اور بخش دیا کرو تو بے شک اللہ بھی بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے»۔ لیکن قتل کے مقدمات میں سہل نگاری اور چشم پوشی کو قصاص کی راہ میں حائل نہیں ہونے دینا چاہیے ، بلکہ شدت ّ کے ساتھ پیروی ہونی چاہیے، تاکہ اس سے آگے قتل کا سلسلہ بند ہو۔ آیت کے آخر میں فرمایا: لَعَلَّکُمْ تَـتَّقُوْنَ. «تاکہ تم بچ سکو»۔ یعنی اللہ کی حدود کی خلاف ورزی اور ایک دوسرے پر ظلم و تعدی ّسے بچو۔