October 27, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 173

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

اس نے تو تمہارے لئے بس مردار جانور، خون اور سور حرام کیا ہے نیز وہ جانور جس پر اﷲ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔ ہاں اگر کوئی شخص انتہائی مجبوری کی حالت میں ہو (اور ان چیزوں میں سے کچھ کھالے) جبکہ اس کا مقصد نہ لذت حاصل کرنا ہو اور نہ وہ (ضرورت کی) حد سے آگے بڑھے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ یقینا اﷲ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے

  آیت  173:    اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَـیْکُمُ الْمَیْتَۃَ وَالدَّمَ:   اُس نے تو تم پر یہی حرام کیا ہے ُمردار اورخون،  

            جو جانوراپنی موت آپ مر گیا ،  ذبح نہیں کیا گیا وہ حرام ہے اور خون حرام ہے،  نجس ہے۔  اسی لیے ِاہل اسلام کا ذبح کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ صرف گردن کو کاٹا جائے ،  تاکہ اس میں شریانیں وغیرہ کٹ جائیں اور جسم کا اکثر خون نکل جائے۔  لیکن اگر جھٹکا کیا جائے،  یعنی تیز دھار آلے کے ایک ہی وار سے جانور کی گردن الگ کر دی جائے،  جیسے سکھ کرتے ہیں یا جیسے یورپ وغیرہ میں ہو تا ہے،  تو پھر خون جسم کے اندر رہ جاتا ہے۔  اس طریقے سے مارا گیا جانور حرام ہے۔  

             وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ:   اور خنزیر کا گوشت ،

             وَمَآ اُہِلَّ بِہ لِغَیْرِ اللّٰہِ:   اور جس پر اللہ کے سوا کسی کا نام پکارا گیا ہو۔   

            یعنی کسی جانور کو ذبح کرتے ہوئے کسی ُبت کا،  کسی دیوی کا،  کسی دیوتا کا،  الغرض اللہ کے سوا کسی کا بھی نام لیا گیا تو وہ حرام ہو گیا،  اس کا گوشت کھانا حرام مطلق ہے،  لیکن اسی کے تابع یہ صورت بھی ہے کہ کسی بزرگ کا قرب حاصل کرنے کے لیے جانور کو اس کے مزار پر لے جا کر وہاں ذبح کیا جائے،  اگرچہ دعویٰ یہ ہو کہ یہ صاحب مزار کے ایصالِ ثواب کی خاطر اللہ تعالیٰ کے لیے ذبح کیا جا رہا ہے۔  اس لیے کہ ایصالِ ثواب کی خاطر تو یہ عمل گھر پر بھی کیا جا سکتا ہے۔   َ

            وہ کھانے جو اہل ِعرب میں اُس وقت رائج تھے،  اللہ تعالیٰ نے بنیادی طور پر ان میں سے چار چیزوں کی حرمت کا قرآن حکیم میں بار بار اعلان کیا ہے۔  مکی سورتوں میں بھی ان چیزوں کی حرمت کا متعدد بار بیان ہوا ہے اور یہاں سورۃ البقرۃ میں بھی جو مدنی سورت ہے، اس کے بعد سورۃ المائدۃ میں یہ مضمون پھر آئے گا۔ ان چار چیزوں کی حرمت کے بیان سے حلال و حرام کی تفصیل پیش کرنا ہرگز مقصود نہیں ہے،  بلکہ مشرکین کی تردید ہے۔  

             فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّلاَ عَادٍ فَلآَ اِثْمَ عَلَیْہِ:   پھر جو کوئی مجبور ہو جائے اور وہ خواہش مند اور حد سے آگے بڑھنے والا نہ ہو تو اُس پر کوئی گناہ نہیں۔   

            اگر کوئی شخص بھوک سے مجبور ہو گیا ہے ،  جان نکل رہی ہے اور کوئی شے کھانے کو نہیں ہے تو وہ جان بچانے کے لیے حرام کردہ چیز بھی کھا سکتا ہے۔  لیکن اس کے لیے دو شرطیں عائد کی گئی ہیں، ایک تو وہ اس حرام کی طرف رغبت اور میلان نہ رکھتا ہو اور دوسرے یہ کہ جان بچانے کے لیے جو نا گزیر مقدار ہے اس سے آگے نہ بڑھے ۔  ان دو شرطوں کے ساتھ جان بچانے کے لیے حرام چیز بھی کھائی جا سکتی ہے ۔

              اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ:    یقینا اللہ بخشنے والا،  رحم کرنے والا ہے۔   

UP
X
<>