July 26, 2025

قرآن کریم > النحل >surah 16 ayat 75

ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً عَبْدًا مَّمْلُوكًا لاَّ يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ وَمَن رَّزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهْرًا هَلْ يَسْتَوُونَ الْحَمْدُ لِلّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاَ يَعْلَمُونَ 

اﷲ ایک مثال دیتا ہے کہ ایک طرف ایک غلام ہے جو کسی کی ملکیت میں ہے، اُس کو کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں ، اور دوسری طرف وہ شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے عمدہ رزق عطا کیا ہے، اور وہ اُس میں سے پوشیدہ طور پر بھی اور کھلے بندوں بھی خوب خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابرہو سکتے ہیں؟ ساری تعریفیں اﷲ کی ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ (ایسی صاف بات بھی) نہیں جانتے

 آیت ۷۵:  ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً عَبْدًا مَّمْلُوْکًا لاَّ یَقْدِرُ عَلٰی شَیْئ:  «اللہ نے مثال بیان کی ہے ایک غلام مملوک کی، جو اختیار نہیں رکھتا کسی چیز پر بھی»

            اللہ تعالیٰ ان کے شرک کی نفی کے لیے یہ مثال بیان کر رہا ہے کہ ایک بندہ وہ ہے جو کسی کا غلام اورمملوک ہے، اس کا کچھ اختیار نہیں، وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔

             وَّمَنْ رَّزَقْنٰہُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَہُو یُنْفِقُ مِنْہُ سِرًّا وَّجَہْرًا:  «اور (ایک وہ ہے) جس کو ہم نے اپنے پاس سے بہت اچھا رزق دیا ہے، اور وہ اس میں سے خرچ کرتا ہے چھپ کر بھی اور علانیہ بھی۔»

            رزق میں مال، علم اور صلاحیتیں سب شامل ہیں۔ یعنی وہ شخص مال بھی خرچ کر رہا ہے، لوگوں کو تعلیم بھی دے رہا ہے، اور کئی دوسرے طریقوں سے بھی لوگوں کو مستفید کر رہا ہے۔

             ہَلْ یَسْتَوُنَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ بَلْ اَکْثَرُہُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ:  «کیا یہ (دونوں ) برابر ہیں ؟ ُکل تعریف اور شکر اللہ کے لیے ہے، لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔»

            ایک طرف اللہ کا وہ بندہ ہے جو اُس کے دین کی خدمت میں مصروف ہے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض سر انجام دے رہا ہے، لوگوں میں دین کی تعلیم کو عام کر رہا ہے، یا اگر صاحب ثروت ہے تو اپنا مال اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے خرچ کر رہا ہے اور محتاجوں کی مدد کر رہا ہے۔ جب کہ دوسری طرف ایک ایسا شخص ہے جس کے پاس کچھ اختیار وقدرت نہیں ہے، وہ اپنی مرضی سے کچھ کر ہی نہیں سکتا۔ تو یہ دونوں برابر کیسے ہو سکتے ہیں؟

UP
X
<>