July 28, 2026

قرآن کریم > النساء >surah 4 ayat 15

وَاللاَّتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِن نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُواْ عَلَيْهِنَّ أَرْبَعةً مِّنكُمْ فَإِن شَهِدُواْ فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّىَ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلاً

تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کریں ، ان پر اپنے میں سے چار گواہ بنا لو۔ چنانچہ اگروہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں روک کر رکھو یہاں تک کہ انہیں موت اٹھا کر لے جائے، یا اﷲ ان کیلئے کوئی اور راستہ پیدا کر دے

            اب اسلامی معاشرے کی تطہیر کے لیے احکام دیے جا رہے ہیں۔ مسلمان جب تک مکہ میں تھے تو وہاں کفار کا غلبہ تھا۔ اب مدینہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ حیثیت دی ہے کہ اپنے معاملات کو سنوارنا شروع کریں۔ چنانچہ ایک ایک کر کے ان معاشرتی معاملات اور سماجی مسائل کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ اسلامی معاشرے میں عفت و عصمت کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر معاشرے میں جنسی بے راہ روی موجود ہے تو اس کی روک تھام کیسے ہو؟ اس کے لیے ابتدائی احکام یہاں آ رہے ہیں۔ اس ضمن میں تکمیلی احکام سورۃ النور میں آئیں گے۔ معاشرتی معاملات کے ضمن میں احکام پہلے سورۃ النساء‘ پھر سورۃ الاحزاب‘ پھر سورۃ النور اور پھرسورۃ المائدۃ میں بتدریج آئے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ سورۃ الاحزاب اورسورۃ النور کو مصحف میں کافی آگے رکھا گیا ہے اور یہاں پر سورۃ النساء کے بعد سورۃ المائدۃ آگئی ہے۔    ّ    َ   ُ

 آیت 15:    وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْـفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ: ’’اور تمہاری عورتوں میں سے جوکسی بے حیائی کا ارتکاب کریں‘‘

             فَاسْتَشْہِدُوْا عَلَیْہِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ: ’’تو اُن پر اپنے میں سے چار گواہ لاؤ۔‘‘

             فَاِنْ شَہِدُوْا فَاَمْسِکُوْہُنَّ فِی الْـبُـیُوْتِ: ’’پس اگر وہ گواہی دے دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند کردو‘‘

             حَتّٰی یَتَوَفّٰـٹہُـنَّ الْمَوْتُ: ’’یہاں تک کہ موت ان کو لے جائے‘‘

            اسی حالت میں ان کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔

             اَوْیَجْعَلَ اللّٰہُ لَـہُنَّ سَبِیْلاً:’’یا اللہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نکال دے۔‘‘

            بدکاری کے متعلق یہ ابتدائی حکم تھا۔ بعد میں سورۃ النور میں حکم آ گیا کہ بدکاری کرنے والے مرد و عورت دونوں کو سو سو کوڑے لگائے جائیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایسی لڑکیوں یا عورتوں کا تذکرہ ہے جو مسلمانوں میں سے تھیں مگر ان کا بدکاری کا معاملہ کسی غیر مسلم مرد سے ہوگیا جو اسلامی معاشرے کے دباؤ میں نہیں ہے۔ ایسی عورتوں کے متعلق یہ ہدایت فرمائی گئی کہ انہیں تاحکم ثانی گھروں کے اندر محبوس رکھا جائے۔   َ  

UP
X
<>