قرآن کریم > النساء >surah 4 ayat 108
يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لاَ يَرْضَى مِنَ الْقَوْلِ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا
یہ لوگوں سے تو شرماتے ہیں ، اور اﷲ سے نہیں شرماتے، حالانکہ وہ اس وقت بھی ان کے پاس ہوتا ہے جب وہ راتوں کو ایسی باتیں کرتے ہیں جو اﷲ کو پسند نہیں ۔ اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اﷲ نے اس سب کا احاطہ کر رکھا ہے
آیت 108: یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلاَ یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰہِ: ’’یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتے‘‘ ُ
یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتے۔
وَہُوَ مَعَہُمْ اِذْ یُـبَـیِّتُوْنَ مَا لاَ یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ: ’’اور وہ تو ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ راتوں کو چھپ کر اُس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں۔‘‘
یہ منافقین کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ جب وہ مسلمانوں اوررسول اللہ کے خلاف چوری چھپے سازشیں کر رہے ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اگر اللہ پر ان کا ایمان ہو تو انہیں معلوم ہو کہ اللہ ہماری باتیں سن رہا ہے۔ یہ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں‘ ان سے اپنی باتوں کو خفیہ رکھتے ہیں‘ مگر ان بد بختوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ اللہ تعالی تو ہر وقت ہمارے پاس موجود ہے‘ اس سے تو کچھ نہیں چھپ سکتا۔
وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا: ’’اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ تعالی اس کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔‘‘
یعنی اس کی پکڑ سے یہ کہیں باہر نہیں نکل سکتے۔