October 24, 2026

قرآن کریم > آل عمران >surah 3 ayat 101

وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ وَمَن يَعْتَصِم بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

اور تم کیسے کفر اپناؤگے جبکہ اﷲ کی آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں اور اس کا رسول تمہارے درمیان موجود ہے ؟ اور (اﷲ کی سنت یہ ہے کہ) جو شخص اﷲ کا سہارا مضبوطی سے تھام لے، وہ سیدھے راستے تک پہنچا دیاجاتا ہے

آیت ۱۰۱:    وَکَیْفَ تَـکْفُرُوْنَ وَاَنْتُمْ تُـتْلٰی عَلَـیْـکُمْ اٰیٰتُ اللّٰہِ وَفِـیْـکُمْ رَسُولُــہ:  ’’اور (ذرا سوچو تو سہی) یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم پھر کفر کرنے لگو جبکہ تمہیں اللہ کی آیات پڑھ  کر سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے اندر اُس کا رسول موجود ہے۔‘‘

            تمہارے درمیان محمد رسول اللہ  بنفس ِنفیس تمہاری راہنمائی کے لیے موجود ہیں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مدینہ میں علمائِ یہود کا کتنا اثر تھا۔ اوس اور خزرج کے لوگ ان سے مرعوب تھے کیونکہ یہ اَن پڑھ  لوگ تھے‘ ان کے پاس کوئی کتاب‘ کوئی شریعت اور کوئی قانون نہیں تھا‘ جبکہ یہود صاحب ِکتاب اور صاحب ِ شریعت تھے‘ ان کے ہاں علماء تھے۔ لہٰذا اوس اور خزرج کے جو لوگ اسلام لے آئے تھے ان کے بارے میں اندیشہ ہوتا تھا کہ کہیں یہود کی ریشہ دوانیوں کا شکار نہ ہو جائیں۔ اس قسم کے خطرے سے بچنے کی تدبیر بھی بتا دی گئی:

             وَمَنْ یَّـعْتَصِمْ بِاللّٰہِ فَقَدْ ہُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ:  ’’اور جو کوئی اللہ سے چمٹ جائے اس کو تو ہدایت ہو گئی صراطِ مستقیم کی طرف۔‘‘

            جو کوئی اللہ کی پناہ میں آ جائے‘ اللہ کا دامن مضبوطی سے تھام لے اُسے تو ضرور صراطِ مستقیم کی ہدایت ملے گی اور وہ ضلالت و گمراہی کے خطرات سے محفوظ ہو جائے گا۔ جیسے شیر خوار بچے کو کوئی خطرہ محسوس ہو تو وہ دوڑ کر آئے گا اور اپنی ماں کے ساتھ چمٹ جائے گا ۔ اب وہ یہ سمجھے گا کہ میں مضبوط قلعہ میں آ گیا ہوں‘ اب مجھے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وہ نہیں جانتا کہ ماں بے چاری تمام خطرات سے اس کی حفاظت نہیں کر سکتی۔ اسے کیا پتا کہ کب کوئی درندہ صفت انسان اسے ماں کی گود سے کھینچ کر اُچھالے اور کسی بلم یا نیزے کی اَنی میں َپرو دے۔ بہرحال بچہ تویہی سمجھتا ہے کہ اب میں ماں کی گود میں آ گیا ہوں تو محفوظ پناہ میں آ گیا ہوں۔ اللہ کا دامن واقعتا محفوظ پناہ گاہ ہے‘ اور جو کوئی اس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے وہ گمراہی کی ٹھوکروںسے محفوظ ہو جاتا ہے اور جادئہ مستقیم پر گامزن ہو جاتا ہے۔ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! آمِیْنَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ!!

UP
X
<>