October 24, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 215

يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ

لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ (اﷲ کی خوشنودی کیلئے) کیا خرچ کریں ؟ آپ کہہ دیجئے کہ جو مال بھی تم خرچ کر ووہ والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کیلئے ہونا چاہیئے اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو، اﷲ اس سے پوری طرح با خبر ہے

آیت 215:   یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ :   «یہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟»

            یعنی انفاق کے لیے جو کہا جا رہا ہے تو ہم کیا خرچ کریں؟ کتنا خرچ کریں؟ انسان بھلائی کے لیے جو بھی خرچ کرے تو اس میں سب سے پہلا حق کن کا ہے؟

             قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ :   «کہہ دیجیے جو بھی تم خرچ کرو مال و اسباب میں سے»

             فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ :   «تو والدین‘ رشتے داروں‘ یتیموں‘ مسکینوں اور مسافروں کے لیے (خرچ کرو)۔ »

            سب سے پہلا حق والدین کا ہے‘ اس کے بعد درجہ بدرجہ قرابت داروں‘ یتیموں‘ مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔

             وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہ عَلِیْمٌ :   «اور جو خیر بھی تم کماؤ گے اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ »

            تم جو بھی اچھا کام کرو گے تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم میں ہے۔  ضرورت نہیں ہے کہ دنیا اس سے واقف ہو‘ تمہیں اگر اللہ سے اجر لینا ہے تو وہ تورات کے اندھیرے میں بھی دیکھ رہا ہے۔  اگر تمہارے دائیں ہاتھ نے دیا ہے اور بائیں کو پتا نہیں چلا تو اللہ کو تو پھر بھی پتا چل گیا ہے۔  تو تم خاطر جمع رکھو‘ تمہاری ہر نیکی اللہ کے علم میں ہے اور وہ اسے ضائع نہیں کرے گا۔  

            اب اگلی آیت میں قتال کے مضمون کا تسلسل ہے۔  میں نے سورۃ البقرۃ کے نصف ِآخر کے مضامین کو چار مختلف رنگوں کی لڑیوں سے تشبیہہ دی تھی‘ جن کو باہم بٹ لیا جائے تو چاروں رنگ کٹے پھٹے نظر آتے ہیں اور اگر انہیں کھول دیا جائے تو ہر رنگ مسلسل نظر آتا ہے۔  

UP
X
<>