April 4, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 214

أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَثَلُ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَسَّتْهُمُ الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ

(مسلمانو !) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں (یونہی) داخل ہو جاؤ گے ۔ حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے گذر ے ہیں ۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انہیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھی بول اٹھے کہ ’’ اﷲ کی مدد کب آئے گی ‘‘ ۔ یاد رکھو ! اﷲ کی مدد نزدیک ہے

 آیت 214:   اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ :   «کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے»

             وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَّـثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَـبْلِکُمْ :   «حالانکہ ابھی تک تمہارے اوپر وہ حالات و واقعات وارد نہیں ہوئے جو تم سے پہلوں پر ہوئے تھے۔ »

             مَسَّتْہُمُ الْبَاْسَآئُ وَالضَّرَّآئُ وَزُلْزِلُوْا :   «پہنچی ان کو سختی بھوک کی اور تکلیف اور وہ ہلا مارے گئے»

             حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ :   «یہاں تک کہ (وقت کا) رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی مدد؟»

             اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ :  «(اب انہیں یہ خوشخبری دی گئی کہ) آگاہ ہو جاؤ‘ یقینا اللہ کی مدد قریب ہے۔ »

            یعنی اللہ تو اہل ایمان کو آزماتا ہے‘ اسے کھوٹے اور کھرے کو الگ کرنا ہے۔  یہ وہی بات ہے جو اس سے پہلے انیسویں رکوع کے بالکل آغاز میں آ چکی ہے:  وَلَـنَـبْلُوَنَّــکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ  (آیت: ۱۵۵) «اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مال و جان اور ثمرات کے نقصان سے»۔ یہ کوئی پھولوں بھرا راستہ نہیں ہے‘ پھولوں کی سیج نہیں ہے‘ حق کا راستہ کانٹوں بھرا راستہ ہے‘ اس کے لیے ذہناً تیار ہو جاؤ۔    

در رہِ منزلِ لیلیٰ کہ خطرہا ست بسے                     

شرطِ اوّل قدم این است کہ مجنوں باش                    

اور : 

یہ شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا ہے                               

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا!                     

اس راستے میں اللہ کی مدد ضرور آتی ہے‘ لیکن آزمائشوں اور قربانیوں کے بعد ۔  چنانچہ صحابہ کرام کو پھر سورۃ الصف میں فتح و نصرت کی خوشخبری سنائی گئی ‘ جبکہ غزوئہ احزاب واقع ہو چکا تھا اورٌ محمدرسول اللہ  اور آپؐ کے ساتھی اہل ایمان شدید ترین امتحان سے کامیابی کے ساتھ گزر چکے تھے ۔ تب انہیں بایں الفاظ خوشخبری دی گئی:  وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَا نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ :  (آیت: ۱۳)  «اور جو دوسری چیز تمہیں پسند ہے (وہ بھی تمہیں ملے گی)‘ اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح»۔  وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ :   «اور (اے نبی!) اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے!» اپنے اہل ِایمان ساتھیوں کو بشارت دے دیجیے کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اللہ کی نصرت کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔ 

UP
X
<>