October 25, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 193

وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ

اور تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اﷲ کا ہو جائے ۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو (سمجھ لو کہ) تشدد سوائے ظالموں کے کسی پر نہیں ہونا چاہیئے

آیت 193:   وَقٰـتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَـکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ:   اور لڑو ان سے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہو جائے۔   

              فَاِنِ انْتَہَوْا فَلاَ عُدْوَانَ اِلاَّ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ:  پھر اگر وہ باز آ جائیں تو کوئی زیادتی جائز نہیں ہے مگر ظالموں پر۔   

            دعوتِ محمدی   کے ضمن میں اب یہ جنگ کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔  مسلمانو جان لو،  ایک دَور وہ تھا کہ بارہ تیرہ برس تک تمہیں حکم تھا:  کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ.  «اپنے ہاتھ باندھے رکھو!»  ماریں کھاؤ لیکن ہاتھ مت اٹھانا۔  اب تمہاری دعوت اور تحریک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے،  اب جب تمہاری تلواریں نیام سے باہر آ گئی ہیں تو یہ نیام میں نہ جائیں جب تک کہ فتنہ بالکل ختم نہ ہو جائے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے،  اللہ کا دین قائم ہو جائے،  پوری زندگی میں اس کے احکام کی تنفیذ ہو رہی ہو۔  یہ آیت دوبارہ سورۃ الانفال میں زیادہ نکھری ہوئی شان کے ساتھ آئی ہے:  وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَـکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہ لِلّٰہِ:   (آیت: 39)  «اور جنگ کرو اُن سے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین کُل کا کُل اللہ کے لیے ہو جائے »۔ دین کی بالا دستی جزوی طور پر نہیں بلکہ کلی طور پر پوری انسانی زندگی پر قائم ہو جائے،  انفرادی زندگی پر بھی اور اجتماعی زندگی پر بھی۔  اور اجتماعی زندگی کے بھی سارے پہلو   (Politico-Socio-Economic System)  کلی ُطور پر اللہ کے احکام کے تابع ہوں۔ 

UP
X
<>