October 25, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 188

وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ

اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقوں سے نہ کھاؤ اور نہ ان کا مقدمہ حاکموں کے پاس اس غرض لے جاؤ کہ لوگوں کے مال کا کوئی حصہ جانتے بوجھتے ہڑپ کر نے کا گناہ کرو

فرمایا:

 آیت 188:    وَلاَ تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَـکُمْ بَیْنَـکُمْ بِالْبَاطِلِ:   اور تم اپنے مال آپس میں باطل طریقوں سے ہڑپ نہ کرو ،

             وَتُدْلُوْا بِہَآ اِلَی الْحُکَّامِ :   اور اس کو ذریعہ نہ بناؤ حکام ّتک پہنچنے کا ،

             لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ:   تاکہ تم لوگوں کے مال کا کچھ حصہّ ہڑپ کر سکو گناہ کے ساتھ ،

             وَاَنْـتُـمْ تَعْلَمُوْنَ:  اور تم اس کو جانتے بوجھتے کر رہے ہو۔   

            یہ تقویٰ کے لیے معیار اور کسوٹی ہے۔  جو شخص اکلِ حلال پر قانع ہو گیا اور حرام خوری سے بچ گیا وہ متقی ہے۔  ورنہ نمازوں اور روزوں کے انبار کے ساتھ ساتھ جو شخص حرام خوری کی روش اختیار کیے ہوئے ہے وہ متقی نہیں ہے۔  میں حیران ہوتا ہوں کہ لوگوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ احکام کی آیات کے درمیان یہ آیت کیونکر آئی ہے۔  اس سے پہلے روزے کے احکام آئے ہیں،  آگے حج کے احکام آ رہے ہیں،  پھر قتال کے احکام آئیں گے۔  ان کے درمیان میں اس آیت کی کیا حکمت ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ جیسے روزے کی حکمت کا نقطہ ٔعروج یہ ہے کہ روحِ انسانی میں تقر ّب اِلی اللہ کی طلب پیدا ہو جائے اسی طرح احکامِ صوم کا نقطہ ٔعروج  اکل ِحلال  ہے۔  

UP
X
<>