October 27, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 182

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

ہاں اگر کسی شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ کوئی وصیت کرنے والا بے جا طرف داری یا گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے اور وہ متعلقہ آدمیوں کے درمیان صلح کرادے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ بیشک اﷲ تعالیٰ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے

آیت 182:     فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا:   پھر جس کو اندیشہ ہو کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے جانب داری یا حق تلفی کا،  

            اگر کسی کو یہ اندیشہ ہو اور دیانت داری کے ساتھ اس کی یہ رائے ہو کہ وصیت کرنے والے نے ٹھیک وصیت نہیں کی،  بلکہ بے جا جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے یا کسی کی حق تلفی کر کے گناہ کمایا ہے ۔

             فَاَصْلَحَ بَیْنَہُمْ:   اور وہ ان کے ما بین صلح کرا دے،  

            اس طرح کے اندیشے کے بعد کسی نے ورثاء کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ دیکھو!  ان کی وصیت تو یہ تھی  لیکن اس میں یہ زیادتی والی بات ہے،  اگر تم لوگ متفق ہو جاؤ تو اس میں اتنی تبدیلی کر دی جائے؟

             فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ:   تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔   

            یعنی ایسی بات نہیں ہے کہ اس وصیت کو ایسا تقدس حاصل ہو گیا کہ اب اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی،  بلکہ باہمی مشورے سے اور اصلاح کے جذبے سے وصیت میں تغیر و تبدل ہو سکتا ہے۔   ّ

             اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ:    یقینا اللہ تعالیٰ بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔   

UP
X
<>