قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 170
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ
اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ اسلام کی پیروی کرو جو اﷲ نے اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں ! ہم تو ان باتوں کی پیروی کریں گے جن پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے ۔ بھلا کیا اس صورت میں بھی (ان کو یہی جاہیئے) جب ان کے باپ دادے (دین کی) ذرا بھی سمجھ نہ رکھتے ہوں، اور انہوں نے کوئی (آسمانی) ہدایت بھی حاصل نہ کی ہو؟
آیت 170: وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوْا مَــآ اَنْزَلَ اللّٰہُ : اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اس کی جو اللہ نے نازل کیا ہے
قَالُوْا بَلْ نَـتَّبِعُ مَـآ اَلْـفَـیْـنَا عَلَیْہِ اٰبَــآءَنَا: وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ہم تو پیروی کریں گے اُس طریقے کی جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے۔
اَوَلَوْ کَانَ اٰبَآؤُہُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّلاَ یَہْتَدُوْنَ: اگرچہ ان کے آباء و اَجداد نہ کسی بات کو سمجھ پا ئے ہوں اور نہ ہدایت یافتہ ہوئے ہوں (پھر بھی وہ اپنے آباء و اَجداد ہی کی پیروی کرتے رہیں گے؟)
سورۃ البقرۃ کے تیسرے رکوع کی پہلی آیت (جہاں نوعِ انسانی کو خطاب کر کے عبادتِ ربّ کی دعوت دی گئی) کے ضمن میں وضاحت کی گئی تھی کہ جو لوگ تم سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی تو مخلوق تھے جیسے تم مخلوق ہو، جیسے تم سے خطا ہو سکتی ہے ان سے بھی ہوئی، جیسے تم غلطی کر سکتے ہو انہوں نے بھی کی۔