قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 167
وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ
اور جنہوں نے ان (پیشواؤں) کی پیروی کی تھی وہ کہیں گے کہ کاش ! ہمیں ایک مرتبہ پھر (دنیا میں ) لوٹنے کا موقع دے دیا جائے تو ہم بھی ان (پیشواؤں) سے اسی طرح بے تعلقی کا اعلان کریں جیسے انہوں نے ہم سے بے تعلقی کا اعلان کیا ہے ۔ اس طرح اﷲ انہیں دکھا دے گا کہ ان کے اعمال (آج) ان کیلئے حسرت ہی حسرت بن چکے ہیں اور اب وہ کسی صورت دوزخ سے نکلنے والے نہیں ہیں
آیت 167: وَقَالَ الَّذِیْنَ اتَّـبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً: اور جو اُن کے پیرو کار تھے وہ کہیں گے کہ اگر کہیں ہمیں دنیا میں ایک بار لوٹنا نصیب ہو جائے ،
فَنَتَـبَرَّاَ مِنْہُمْ کَمَا تَـبَرَّؤُوْا مِنَّا: تو ہم بھی ان سے اسی طرح اظہارِ براء ت کریں گے جیسے آج یہ ہم سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔
کَذٰلِکَ یُرِیْہِمُ اللّٰـہُ اَعْمَالَہُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْہِمْ: اس طرح اللہ ان کو ان کے اعمال حسرتیں بنا کر دکھائے گا۔
وہ کہیں گے: کاش ہم نے سمجھا ہوتا، کاش ہم نے ان کی پیروی نہ کی ہوتی، کاش ہم نے ان کو اپنا لیڈر اور اپنا ہادی و رہنما نہ مانا ہوتا!!
وَمَا ہُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ: لیکن وہ اب آگ سے نکلنے والے نہیں ہوں گے ۔
اب ان کو دوزخ سے نکلنا نصیب نہیں ہو گا۔