قرآن کریم > الإسراء
الإسراء
•
وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا
اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو۔ ہم اُنہیں بھی رزق دیں گے، اور تمہیں بھی۔ یقین جانوں کہ اُن کو قتل کرنا بڑی بھاری غلطی ہے
•
وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا
اور زِنا کے پاس بھی نہ پھٹکو۔ وہ یقینی طور پر بڑی بے حیائی اور بے راہ روی ہے
•
وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ۭ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطٰنًا فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ ۭ اِنَّهُ كَانَ مَنْصُوْرًا
اور جس جان کو اﷲ نے حرمت عطا کی ہے، اُسے قتل نہ کرو، اِلّا یہ کہ تمہیں (شرعا ً) اس کا حق پہنچتا ہو۔ اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل ہوجائے تو ہم نے اُس کے ولی کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔ چنانچہ اس پر لازم ہے کہ وہ قتل کرنے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔ یقینا وہ اس لائق ہے کہ اُس کی مدد کی جائے
•
وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْيَتِيمِ إِلاَّ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّى يَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُواْ بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُولاً
اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکو، مگر ایسے طریقے سے جو (اُس کے حق میں ) بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو، عہد کے بارے میں (تمہاری) بازپرس ہونے والی ہے
•
وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ وَزِنُواْ بِالقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً
اور جب کسی کو کوئی چیز پیمانے سے ناپ کر دو تو پورا ناپو، اور تولنے کیلئے صحیح ترازو اِستعمال کرو۔ یہی طریقہ درست ہے، اور اسی کا انجام بہتر ہے
•
وَلاَ تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولاً
اور جس بات کا تمہیں یقین نہ ہو، (اُسے سچ سمجھ کر) اُ س کے پیچھے مت پڑو۔ یقین رکھو کہ کان، آنکھ اور دل سب کے بارے میں (تم سے) سوال ہوگا۔
•
وَلاَ تَمْشِ فِي الأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولاً
اور زمین پر اَکڑ کر مت چلو۔ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو، اور نہ بلندی میں پہاڑوں کو پہنچ سکتے ہو
•
ذَلِكَ مِمَّا أَوْحَى إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتُلْقَى فِي جَهَنَّمَ مَلُومًا مَّدْحُورًا
(اے پیغمبر !) یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تمہارے پروردگار نے تم پر وحی کے ذریعے پہنچائی ہیں ۔ اور (اے انسان !) اﷲ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بنا، ورنہ تجھے ملامت کر کے، دھکے دے کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا
•
أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلآئِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلاً عَظِيمًا
بھلا کیا تمہارے رَبّ نے تمہیں تو بیٹے دینے کیلئے چن لیا ہے، اور خو د اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لو گ بڑی سنگین بات کہہ رہے ہو
•
كُلُّ ذَلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوهًا
اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے وضاحتیں کی ہیں ، تاکہ لوگ ہوش میں آئیں ، مگر یہ لوگ ہیں کہ اس سے ان کے بدکنے ہی میں اور اضافہ ہورہا ہے