قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 250
وَلَمَّا بَرَزُوا لِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ قَالُوا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ
اور جب یہ لوگ جالوت کے آمنے سامنے ہوئے تو انہوں نے کہا :’’ اے ہمارے پروردگار ! صبر و استقلا ل کی صفت ہم پر انڈیل دے، ہمیں ثابت قدمی بخش دے اور ہمیں اس کافر قوم کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا فرمادے ۔ ‘‘
آیت 250: وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِہ : «اور جب وہ مقابلے پر نکلے جالوت اور اس کے لشکروں کے»
«بَرَزَ» کے معنی ہیں ظاہر ہو جانا‘ آمنے سامنے آ جانا۔ اب دونوں لشکر میدانِ جنگ میں آمنے سامنے آئے۔ اِدھر طالوت کا لشکر ہے اور اُدھر جالوت کا۔
قَالُوْا رَبَّـنَـآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا : «تو انہوں نے دعا کی کہ اے ہمارے رب! ہم پر صبر اُنڈیل دے»
«اَفْرَغَ» کا مفہوم ہے کسی برتن سے کسی کے اوپر پانی اس طرح گرا دینا کہ وہ برتن خالی ہو جائے۔ طالوت اور ان کے ساتھی اہل ایمان نے دشمن کے مد مقابل آنے پر دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر صبر کا فیضان فرما‘ صبر کی بارش فرما دے۔
وَّثَـبِّتْ اَقْدَامَنَا : «اور (میدانِ جنگ میں) ہمارے قدموں کو جما دے»
وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ : «اور ہماری مدد فرما ان کافروں کے مقابلے میں۔ »
یہ دعا گویا اہل ایمان کو تلقین کی جا رہی ہے کہ جب بدر کے موقع پر تمہارا کفار سے مقابلہ ہوگا تو تمہیں یہ دعا کرنی چاہیے۔