October 23, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 248

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ

اور ان سے ان کے نبی نے یہ بھی کہا کہ : ’’ طالوت کی بادشاہت کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق (واپس) آجائے گا جس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سکینت کا سامان ہے اور موسیٰ اور ہارون نے جو اشیاء چھوڑ ی تھیں ان میں سے کچھ باقی ماندہ چیزیں ہیں ۔ اسے فرشتے اٹھائے ہوئے لائیں گے اگر تم مومن ہو تو تمہارے لئے اس میں بڑی نشانی ہے

 آیت 248:    وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ التَّابُوْتُ فِیْہِ سَکِیْنَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَبَـقِیَّـۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ ہٰرُوْنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ :   «اور ان سے کہا ان کے نبی نے کہ طالوت کی بادشاہت کی ایک نشانی یہ ہو گی کہ تمہارے پاس وہ صندوق آ جائے گا (جو تم سے چھن چکا ہے) جس میں تمہارے لیے تسکین کا سامان ہے تمہارے ربّ کی طرف سے اور کچھ آلِ موسیٰ   اور آلِ ہارون   کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں‘ وہ صندوق فرشتوں کی تحویل میں ہے۔ »

            طالوت کی امارت اور بادشاہی کی علامت کے طور پر وہ صندوق تمہارے پاس واپس آ جائے گا۔  اصل میں یہ «تابوتِ سکینہ» لکڑی کا ایک بہت بڑا صندوق تھا ‘جس میں بنی اسرائیل کے انبیاء کرام  کے تبرکات محفوظ تھے۔  یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ صندوق اب بھی مسجد اقصیٰ کے نیچے سرنگ میں موجود ہے۔  انہوں نے بعض ذرائع سے فوٹو لے کر اس کی دستاویزی فلم بھی دکھا دی ہے۔  یہ «تابوتِ سکینہ» حضرت سلیمان  کے تعمیر کردہ ہیکل کے تہہ خانے میں رکھا ہوا تھا اور وہیں پر ربائی (رَبَّانِیِّیْنَ) بھی موجود تھے۔  جب اس ہیکل کو منہدم کیا گیا تو وہ اسی میں دب گئے۔  وہ تہہ خانہ چاروں طرف سے بند ہو گیا ہو گا اور ان کی لاشیں اور تابوتِ سکینہ اس کے اندر ہی ہوں گے۔  تابوت ِسکینہ میں بنی اسرائیل کے لیے بہت بڑی روحانی تسکین کا سامان تھا کہ ہمارے پاس حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے تبرکات ہیں۔  اس میں عصائے موسیٰ بھی تھا اور وہ الواح بھی جو حضرت موسٰی   کو کوہِ طورپر دی گئی تھیں اور جن پر تورات لکھی ہوئی تھی۔  اس تابوت کو دیکھ کر بنی اسرائیل کو اسی طرح تسکین ہوتی تھی جیسے ایک مسلمان کو خانہ ٔ کعبہ کو دیکھ کر تسکین ہوتی ہے۔  اسرائیلیوں کو جب ان کے پڑوسی ملکوں نے شکست دی تو وہ تابوتِ سکینہ بھی چھین کر لے گئے۔  پوری قوم نے اس عظیم سانحے پر ماتم کیا اور اسے بنی اسرائیل سے ساری عزت و حشمت چھن جانے سے تعبیر کیا گیا۔  چنانچہ اس سے ان کے حوصلے مزید پست ہو گئے۔  اب جبکہ اسرائیلیوں نے جنگ کا ارادہ کیا اور وقت کے نبی حضرت سیموئیل نے طالوت کو ان کا امیر مقرر کیا تو انہیں یہ بھی بتایا کہ طالوت کو اللہ کی طرف سے نامزد کیے جانے کی ایک علامت یہ ہو گی کہ تمہاری تسکین کا سامان «تابوت ِسکینہ» جو تم سے چھن گیا تھا‘ ان کے عہد ِامارت میں تمہیں واپس مل جائے گا اور اس وقت وہ فرشتوں کی تحویل میں ہے۔  ہوا یہ کہ ان کے دشمن جب تابوت چھین کر لے گئے تو وہ ان کے لیے ایک مصیبت بن گیا۔  وہ اسے جہاں رکھتے وہاں طاعون اور دوسری وبائیں پھوٹ پڑتیں۔  بالآخر انہوں نے اسے نحوست کا باعث سمجھتے ہوئے ایک چھکڑے پر رکھا اور بیلوں کو ہانک دیا کہ جدھر چاہیں لے جائیں۔  بیل سیدھے چلتے چلتے اسے بنی اسرائیل کے علاقے میں لے آئے۔  ظاہر ہے کہ یہ معاملہ فرشتوں کی راہنمائی سے ہوا۔  اس طرح وہ تابوتِ سکینہ ان کے پاس واپس پہنچ گیا جو برسوں پہلے ان سے چھن چکا تھا۔

             اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّــکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ :   «یقینا اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ماننے والے ہو۔ » 

UP
X
<>