October 23, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 239

فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ

اورا گر تمہیں (دشمن کا) خو ف لاحق ہو تو کھڑے کھڑے یا سوار ہونے کی حالت ہی میں (نماز پڑ ھ لو) پھر جب تم امن کی حالت میں آجاؤ تو ا ﷲ کا ذکر اس طریقے سے کرو جو اس نے تمہیں سکھایا ہے جس سے تم پہلے ناواقف تھے

 آیت 239:    فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً اَوْ رُکْبَانًا :   «پھر اگر تم خطرے کی حالت میں ہو تو چاہے پیادہ پڑھ لو یا سوار ۔ »

            دشمن اگر پیچھا کر رہا ہے اور آپ رُک کر تمام شرائط و آداب کے ساتھ نماز پڑھنا شروع کر دیں گے تو وہ آپ کے سر پر پہنچ جائے گا۔  یا آپ نے کہیں جا کر فوری طور پر حملہ کرنا ہے اور آپ نماز کے لیے رُک جائیں گے تو مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کرسکیں گے۔  چنانچہ دشمن سے خطرے کی حالت میں پیدل یا سوار جس حال میں بھی ہوں نماز پڑھی جا سکتی ہے۔  

             فَاِذَآ اَمِنْتُمْ :   «پھر جب تم امن میں ہو جاؤ» 

            خطرہ دور ہو جائے اور امن کی حالت ہو۔

             فَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمْ مَّا لَمْ تَـکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ :   «پھر اللہ کو یاد کرو جیسے کہ تمہیں اُس نے سکھایا ہے جس کو تم نہیں جانتے تھے۔ »

            اُمت کو نمازکا طریقہ محمد رسول اللہ  نے سکھایا ہے اور حکم دیا ہے : ((صَلُّوْا کَمَا رَاَیْتُمُوْنِیْ اُصَلِّیْ))    «نماز پڑھو جیسے کہ تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو»۔  نماز کا یہ طریقہ اللہ تعالیٰ کا سکھایا ہوا ہے۔  روایات سے ثابت ہے کہ حضرت جبرائیل  نے آ کر محمد رسول اللہ  کو دو دن نماز پڑھائی ہے ۔  ایک دن پانچوں نمازیں اول وقت میں اور دوسرے دن پانچوں نمازیں آخری وقت میں پڑھائیں اور بتا دیا کہ ان نمازوں کا وقت ان اوقات کے درمیان ہے۔  چنانچہ نماز کے معاملے میں آنحضور  کے معلم حضرت جبرئیل   ہیں اور آپ  پوری اُمت کے لیے معلم ہیں۔ 

UP
X
<>