October 23, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 235

وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّا أَنْ تَقُولُوا قَوْلًا مَعْرُوفًا وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ

اور (عدت کے دوران) اگر تم ان عورتوں کو اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دو یا (ان سے نکاح کا ارادہ) دل میں چھپائے رکھو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اﷲ جانتا ہے کہ تم ان (سے نکاح) کا خیال تو دل میں لاؤ گے لیکن ان سے نکاح کا دو طرفہ وعدہ مت کرنا، الا یہ کہ مناسب طریقے سے کوئی بات کہہ دو ۔ اور نکاح کا عقد پکا کرنے کا اس وقت تک ارادہ بھی مت کرنا جب تک عدت کی مقررہ مدت اپنی میعاد کو نہ پہنچ جائے۔ اور یاد رکھو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اﷲ اسے خوب جانتا ہے، لہٰذا اس سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو کہ اﷲ بہت بخشنے والا، بڑا بردبار ہے

 آیت 235:    وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہ مِنْ خِطْبَۃِ النِّسَآءِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ :   «اور تم پر کچھ گناہ نہیں ہے اس میں کہ کنایہ و اشارہ میں ظاہر کر دو اُن عورتوں سے پیغامِ نکاح یا پوشیدہ رکھو اپنے دلوں میں۔ »

            کسی عورت کا عدت کے دوران نکاح تو نہیں ہو سکتا ‘ نہ ہی اسے واضح طور پر پیغامِ نکاح دیا جا سکتا ہے‘ البتہ اشارے کنائے میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مجھے اس میں دلچسپی ہے۔  یا پھر یہ بات اپنے دل ہی میں پوشیدہ رکھی جائے اور عدت ختم ہونے کا انتظار کیا جائے۔  

             عَلِمَ اللّٰہُ اَنَّـکُمْ سَتَذْکُرُوْنَہُنَّ :   «اللہ کو معلوم ہے کہ تم ان عورتوں کا ذکر کرو گے»

            آخر تمہیں ان کا خیال تو آئے گا کہ یہ عورت بیوہ ہو گئی ہے‘ اب میں اس سے شادی کر سکتا ہوں۔  کوئی آدمی یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ یہ جو میرے دل میں بیوہ کے بارے میں خیال آ رہا ہے اور اس سے نکاح کی رغبت پیدا ہو رہی ہے تو شاید میں گناہگار ہو گیا ہوں۔  یہاں اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ ایسے خیال کا آنا گناہ نہیں ہے‘ یہ قانونِ فطرت ہے۔  

             وَلٰـکِنْ لاَّ تُوَاعِدُوْہُنَّ سِرًّا :   «لیکن ان سے نکاح کا وعدہ نہ کررکھو چھپ کر»

            ایسا نہ ہو کہ خفیہ ہی خفیہ نکاح کی بات پکی ّہو جائے ۔

             اِلَّا اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلاً مَّعْرُوْفًا :   «سوائے اس کے کہ کوئی بات کہہ دو معروف طریقے سے۔ »

            بس کوئی ایسی معروف بات کہہ سکتے ہو جس سے انہیں اشارہ مل جائے۔

             وَلاَ تَعْزِمُوْا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗط :   «اور مت باندھو گرہ نکاح کی جب تک کہ قانونِ شریعت اپنی مدت کو نہ پہنچ جائے۔ »

            یعنی اللہ کی مقرر کردہ عدت جب تک پوری نہ ہو جائے۔  یہاں کتاب سے مراد قانونِ شریعت ہے۔  کتاب اللہ میں بیوہ کی عدت چار ماہ دس دن مقرر کر دی گئی‘ اس کا پورا ہونا ضروری ہے‘ اس سے پہلے نکاح نہیں ہو سکتا۔  

             وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ فَاحْذَرُوْہُ :   «اور جان رکھو کہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے‘ پس اُس سے ڈرتے رہو۔ »

            اُس کی پکڑ سے بچنے کی کوشش کرو۔

             وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ :   «اور یہ بھی جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا اور ُبردبار ہے۔ »

            اللہ غفور ہے‘ بخشنے والا ہے‘ کوئی خطا ہو گئی ہے تو استغفار کرو‘ تو بہ کرو‘ اللہ معاف فرمائے گا۔  اور وہ حلیم ہے‘ تحمل کرنے والا ہے‘ فوراً نہیں پکڑتا‘ بلکہ ڈھیل دیتا ہے‘ مہلت دیتا ہے کہ اگر چاہو توتم توبہ کرلو۔  

UP
X
<>