قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 224
وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور اﷲ (کے نام) کو اپنی قسموں میں اس غر ض سے استعمال نہ کرو کہ اس کے ذریعے نیکی اور تقویٰ کے کاموں اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی کرانے سے بچ سکو۔ اور اﷲ سب کچھ سنتا جانتا ہے
آیت 224: وَلاَ تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِاَّیْمَانِکُمْ : «اور اللہ کے نام کو تختۂ مشق نہ بنا لو اپنی َقسموں کے لیے»
اَنْ تَــبَـرُّوْا وَتَـتَّــقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ : «کہ بھلائی نہ کرو گے‘ پرہیز گاری نہ کرو گے اور لوگوں کے درمیان صلح نہ کراؤ گے۔ »
یعنی اللہ تعالیٰ کے عظیم نام کو استعمال کرتے ہوئے ایسی قسمیں َمت کھاؤ جو نیکی و تقویٰ اور مقصد ِاصلاح کے خلاف ہوں ۔ کسی وقت غصے ّمیں آ کر آدمی قسم کھا بیٹھتا ہے کہ میں فلاں شخص سے کبھی حسن سلوک اور بھلائی نہیں کروں گا‘ اس سے روکا گیا ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بھی اسی طرح کی قسم کھالی تھی۔ مِسطَح ایک غریب مسلمان تھے‘ جو آپ کے قرابت دار بھی تھے۔ ان کی آپ مدد کیا کرتے تھے۔ جب حضرت عائشہ صدیقہ پر تہمت لگی تو مِسطَح بھی اُس آگ کے بھڑکانے والوں میں شامل ہو گئے ۔ حضرت ابوبکر ان کے طرزِ عمل سے بہت رنجیدہ خاطر ہوئے کہ میں تو اس کی سرپرستی کرتا رہا اور یہ میری بیٹی پر تہمت لگانے والوں میں شامل ہو گیا۔ آپ نے قسم کھا ئی کہ اب میں کبھی اس کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ واقعہ (سورۃ النور) میں آئے گا۔ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم ایسا نہ کرو‘ تم اپنی نیکی کے دروازے کیوں بند کرتے ہو؟ جس نے ایسی قسم کھا لی ہے وہ اس قسم کو کھول دے اور قسم کا کفارہ دے دے۔ اسی طرح لوگوں کے مابین مصالحت کرانا بھی ضروری ہے۔ دو بھائیوں کے درمیان جھگڑا تھا ‘ آپ نے مصالحت کی کوشش کی لیکن آپ کی بات نہیں مانی گئی‘ اس پر آپ نے غصے میں آ کر کہہ دیا کہ اللہ کی قسم‘ اب میں ان کے معاملے میں دخل نہیں دوں گا۔ اس طرح کی قسمیں کھانے سے روکا گیا ہے۔ اور اگر کسی نے ایسی کوئی قسم کھائی ہے تو وہ اسے توڑ دے اور اس کا کفارہ ّدے دے۔
وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ : «اور اللہ سننے والا‘ جاننے والا ہے۔ »