October 24, 2026

قرآن کریم > البقرة >surah 2 ayat 219

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ

لوگ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ بھی ہے اور لوگوں کیلئے کچھ فائدے بھی ہیں اور ان دونوں کا گناہ ان کے فائد ے سے زیادہ بڑھا ہوا ہے ۔ اور لوگ پوچھتے ہیں کہ وہ (اﷲ کی خوشنودی کیلئے) کیا خرچ کریں ؟ آپ کہہ دیجئے کہ ’’ جو تمہاری ضرورت سے زائد ہو ۔ ‘‘ اﷲ اسی طرح اپنے احکام صاف صاف بیان کر تاہے تاکہ تم غور و فکر سے کام لو

 آیت 219:    یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ :   «(اے نبی!) یہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں (کہ ان کا کیا حکم ہے؟) ۔»

      ان احکام سے شریعت کا ابتدائی خاکہ (blue print) تیار ہونا شروع ہو گیا ہے‘ کچھ احکام پہلے آ چکے ہیں اور کچھ اب آ رہے ہیں۔  شراب اور جوئے کے بارے میں یہاں ابتدائی حکم بیان ہوا ہے اور اس پر محض اظہارِ ناراضگی فرمایا گیا ہے۔

      قُلْ فِیْہِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ :   «(اے نبی! ان سے) کہہ دیجیے کہ ان دونوں کے اندر بہت بڑے گناہ کے پہلو ہیں۔ »

       وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ :   «اور لوگوں کے لیے کچھ منفعتیں بھی ہیں۔ »

      وَاِثْمُہُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّـفْعِہِمَا :   «البتہ ان کا گناہ کا پہلو نفع کے پہلو سے بڑا ہے۔ »

     یعنی اشارہ کر دیا گیا کہ ان کو چھوڑ دو۔  اب معاملہ تمہاری عقل ِسلیم کے حوالے ہے‘ حقیقت تم پر کھول دی گئی ہے۔  یہ ابتدائی حکم ہے‘ لیکن حکم کے پیرائے میں نہیں۔  بس واضح کر دیا گیا کہ ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے‘ اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں۔  بقول غالب : 

مے سے غرض نشاط ہے کس رُو سیاہ  کو؟

اِک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے!

اور :     

میں میکدے کی راہ سے ہو کر گزر گیا

ورنہ سفر حیات کا  بے حد  طویل  تھا!

      یہ حکمت سمجھ لیجیے کہ شراب اور جوئے میں کیا چیز مشترک ہے کہ یہاں دونوں کو جمع کیا گیا؟ شراب کے نشے میں بھی انسان اپنے آپ کو حقائق سے منقطع کرتا ہے اور محنت سے جی چراتا ہے۔  وہ زندگی کے تلخ حقائق کا مواجہہ کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔   ع «اِک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے!»----  اور جوئے کی بنیاد بھی محنت کی نفی پر ہے ۔  ایک ّرویہ تو یہ ہے کہ محنت سے ایک آدمی کما رہا ہے‘ مشقت کر رہا ہے ‘کوئی کھوکھا‘ چھابڑی یا ریڑھی لگا کر کچھ کمائی کر رہا ہے‘ جبکہ ایک ہے چانس اور داؤ کی بنیاد پر پیسے کمانا۔  یہ محنت کی نفی ہے۔  چنانچہ شراب اور جوئے کے اندر اصل میں علت ایک ہی ہے۔  

             وَیَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَ :  «اور یہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کتنا خرچ کریں؟»

     آیت: ۱۹۵ میں انفاق کا حکم بایں الفاظ آ چکا ہے: (وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ):  «اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ جھونکو»۔  تو سوال کیا گیا کہ «کتنا خرچ کریں؟» ہمیں کچھ مقدار بھی بتا دی جائے۔  فرمایا:

       قُلِ الْعَفْوَ :   «کہہ دیجیے : جو بھی تمہاری ضرورت سے زائد ہو۔ »

     اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ نہیں ہے کہ تم اپنی ضرورتوں کو پیچھے ڈال دو‘ بلکہ تم پہلے اپنی ضرورتیں پوری کرو‘ پھر جو تمہارے پاس بچ جائے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دو۔  کمیونزم کے فلسفہ میں ایک اصطلاح «قدرِ زائد» (surplus value) استعمال ہوتی ہے۔  یہ ہے «اَلْعَفْوَ»۔ جو بھی تمہاری ضروریات سے زائد ہے یہ  surplus value ہے‘ اسے اللہ کی راہ میں دے دو۔  اس کو بچا کر رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اللہ پر بے اعتمادی کا اظہار کرر ہے ہیں کہ اللہ نے آج تو دے دیا ہے‘ کل نہیں دے گا۔  لیکن یہ کہ انسان کی ضرورتیں کیا ہیں‘ کتنی ہیں‘ اس کا اللہ نے کوئی پیمانہ مقرر نہیں کیا۔  اس کا تعلق باطنی روح سے ہے۔  ایک مسلمان کے اندر اللہ کی محبت اور آخرت پر ایمان جوں جوں بڑھتا جائے گا اتنا ہی وہ اپنی ضرورتیں کم کرے گا‘ اپنے معیارِزندگی کو پست کرے گااور زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں دے گا۔  اصول یہ ہے کہ ہر شخص یہ دیکھے کہ جو میری ضرورت سے زائد ہے اسے میں بچا بچا کر نہ رکھوں‘ بلکہ اللہ کی راہ میں دے دوں۔  انفاق فی سبیل اللہ پر اس سورئہ مبارکہ میں پورے دو رکوع آگے آنے والے ہیں۔  

     کَذٰلِکَ یُـبَـیِّنُ اللّٰہُ لَـکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّـکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ :   «اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لیے واضح کر رہا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔ » 

UP
X
<>