قرآن کریم > الإسراء >surah 17 ayat 40
أَفَأَصْفَاكُمْ رَبُّكُم بِالْبَنِينَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلآئِكَةِ إِنَاثًا إِنَّكُمْ لَتَقُولُونَ قَوْلاً عَظِيمًا
بھلا کیا تمہارے رَبّ نے تمہیں تو بیٹے دینے کیلئے چن لیا ہے، اور خو د اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لو گ بڑی سنگین بات کہہ رہے ہو
آیت ۴۰: اَفَاَصْفٰکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِیْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا: «تو کیا تمہیں تومنتخب کر لیا ہے تمہارے رب نے بیٹوں کے ساتھ اور اپنے لیے بنا لی ہیں فرشتوں میں سے بیٹیاں؟»
یہ اہل عرب کے اس عقیدے کا جواب ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ لوگ بیٹوں پر فخر کرتے تھے اور بیٹیوں کو اپنے لیے باعث ِعار سمجھتے تھے۔ ان کی اسی سوچ کی بنیاد پر ان سے سوال کیا گیا ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے عار سمجھتے ہو اسے آخر کس منطق کے مطابق اللہ سے منسوب کرتے ہو؟
اِنَّکُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلاً عَظِیْمًا: «یہ تو تم بہت بڑی (گستاخی کی) بات کہتے ہو!»